جامعہ کراچی احتجاج, صوبائی وزیر تعلیم نےآج اہم اجلاس طلب کر لیا

جامعہ کراچی میں 40 روزہ احتجاج پر نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس طلب کر لیا

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر)

سندھ کے وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے جامعہ کراچی میں اساتذہ، افسران اور ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے جاری 40 روزہ طویل احتجاج اور امتحانات و تدریسی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ تعلیمی تعطل کو ختم کرنے اور طلبہ کا قیمتی سال بچانے کے لیے صوبائی وزیر نے آج، منگل 9 جون کو، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ امتحانات کے بائیکاٹ کے باعث طلبہ کو شدید تعلیمی نقصان پہنچا ہے، جسے مزید برقرار نہیں رہنے دیا جا سکتا۔ اسی پیش نظر جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ، افسران اور ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام مسائل کا فوری اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔

اجلاس کے شرکاء اور ایجنڈا

صوبائی وزیر کے مطابق اس اہم بیٹھک میں درج ذیل اعلیٰ حکام شرکت کریں گے

  • ڈاکٹر طارق رفیع (چیئرمین، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن)
  • عباس بلوچ (سیکریٹری، بورڈز و جامعات)
  • نعمان احسن (سیکریٹری، سندھ ایچ ای سی)
  • ڈاکٹر سروش لودھی (سربراہ، چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی)

اجلاس کے ایجنڈے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل راہو نے بتایا کہ اس بیٹھک میں جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ملازمین کے جائز مطالبات، یونیورسٹی کے انتظامی و مالی معاملات اور دیگر درپیش مسائل کا تفصیلی اور گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت جائز مطالبات کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل لائحۂ عمل مرتب کرے گی، جبکہ اس کے بدلے شرکاء سے احتجاج اور امتحانات کے بائیکاٹ کو فوری ختم کرنے کی درخواست کی جائے گی تاکہ کیمپس میں تعلیمی سرگرمیاں معمول پر آسکیں۔

پس منظر اور موجودہ صورتحال

یاد رہے کہ تقریباً 10 روز قبل سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں انجمن اساتذہ کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر جامعہ کراچی میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے کوئی کمیٹی قائم کر دی جائے تو وہ احتجاج ختم کر دیں گے۔

حکومت نے اس یقین دہانی پر فوری عمل کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا، جس میں بائیکاٹ کے خاتمے کا حوالہ بھی شامل تھا۔ تاہم، اگلے ہی روز جب انجمن اساتذہ کے عہدیداروں نے یہ معاملہ اپنے اجلاسِ عمومی (جنرل باڈی) میں پیش کیا تو اساتذہ کی اکثریت نے احتجاج ختم کرنے اور امتحانات بحال کرنے کی سخت مخالفت کر دی، جس کے باعث یہ ڈیڈ لاک برقرار رہا۔

آج ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس سے صوبائی حکومت اور تعلیمی حلقوں کو قوی امید ہے کہ جامعہ کراچی کا یہ 40 روزہ بحران بالآخر کسی منطقی اور مثبت انجام تک پہنچ جائے گا۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام، 6150 طلبہ شریک، ڈاکٹر معید یوسف کی خصوصی نشست

راولپنڈی (این این آئی) آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت سابق…

4 days ago

اردو یونیورسٹی ،اساتذہ کا احتجاج، سیکیورٹی انچارج حملہ کیس میں نوٹسز انتقامی کارروائی قرار

کراچی (نیوز ڈیسک) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے سیکیورٹی انچارج پر ہونے والے قاتلانہ…

4 days ago

امریکا، گرل فرینڈ کو قتل کر کے جرمنی فرار ہونے والا بھارتی طالب علم گرفتار

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ایریزونا میں اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل…

4 days ago

معیاری تعلیم، تحقیق اور مصنوعی ذہانت پر توجہ کی ضرورت ہے، چیئرمین ایچ ای سی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد…

4 days ago