سندھ، انٹرمیڈیٹ امتحانات میں سخت سکیورٹی کے دعوے ہوا، پھر پرچہ آؤٹ

امتحان شروع ہوتے ہی ‘اردو لازمی’ کا پیپر سوشل میڈیا پر وائرل، نقل مافیا راج برقرار، طلبہ و والدین میں شدید تشویش

محنتی طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ بند کیا جائے، بورڈ انتظامیہ کی خاموشی مجرمانہ ہے، متاثرہ والدین پھٹ پڑے، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

کراچی (خصوصی رپورٹر/ کرائم رپورٹر) انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کے تحت جاری سالانہ امتحانات کا سکیورٹی پلان مکمل طور پر فلاپ ہو گیا، نقل مافیا نے انتظامیہ کے تمام دعوے خاک میں ملا دیے۔ گزشتہ روز انٹر سالِ دوم کا ‘اردو لازمی’ کا پرچہ شروع ہوتے ہی مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس کے بعد شہر بھر کے امتحانی مراکز، طلبہ اور والدین میں تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق امتحانی وقت شروع ہوتے ہی اردو کا اصل پرچہ واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگا، جس نے امتحانی نظام کی شفافیت اور سکیورٹی انتظامات پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

والدین کا کڑا سوال: ذمہ دار کون؟

پرچہ آؤٹ ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے پر بپھرے ہوئے والدین نے بورڈ انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ والدین کا کہنا تھا کہ:

  • اگر پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی مارکیٹ میں آ گیا تو اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟
  • اعلیٰ حکام خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں جبکہ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

محنتی طلبہ کا مستقبل خطرے میں

امتحانی مراکز کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دہائی دینے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ پیپر لیک ہونے کے پے در پے واقعات سے ان کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دن رات ایک کر کے تیاری کرنے والے غریب اور محنتی امیدواروں کا حق مارا جا رہا ہے جبکہ سفارشی اور نقل مافیا کے سہارے چلنے والے عناصر عروج پا رہے ہیں۔

بورڈ انتظامیہ کی پراسرار خاموشی

دوسری جانب انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی پر نقل مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے اور ان کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اس تمام تر سنگین معاملے پر ہمیشہ کی طرح بورڈ انتظامیہ کی جانب سے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاحال کوئی باضابطہ اور ٹھوس مؤقف سامنے نہیں آ سکا، جس پر عوامی حلقوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔

حکمران نوٹس لیں! (عوامی مطالبہ)، متاثرہ طلبہ اور والدین نے وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس شرمناک واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر پرچہ لیک ہونے کی تصدیق ہو تو سکیورٹی فراہم کرنے والے نااہل افسران اور ذمہ دار کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ تباہ ہوتے ہوئے امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

urdutaleem@gmail.com

Share
Published by
urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

پنجاب میں انٹر پارٹ 1 امتحانات کا آغاز 15 جون سے ، رول نمبر سلپس کی فراہمی شروع

پنجاب میں انٹر پارٹ 1 امتحانات کا آغاز 15 جون سے ، رول نمبر سلپس…

7 hours ago

عید کی چھٹیوں کے بعد پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کا دوبارہ آغاز، آج مختلف مضامین کے پیپرز ہوں گے

لاہور/ملتان (نیوز ڈیسک) پنجاب بھر میں عید کی تعطیلات کے بعد ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ…

18 hours ago

ایچ ای سی کا نیا آن لائن ڈگری تصدیقی نظام ‘عذاب’ بن گیا، آئی ٹی حکام کی نااہلی سے پورا سسٹم فلاپ

کراچی کی اسناد پشاور، لاہور کی کوئٹہ منتقل؛ تصدیق کرنے والے افسر اور امیدوار دونوں…

1 day ago

چینی طلبہ کا حیران کن کارنامہ، دنیا کا سب سے بڑا ریموٹ کنٹرولڈ کاغذی جہاز بنا کر گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے ہائی اسکول کے طلبہ نے ایک منفرد اور شاندار کامیابی…

2 days ago

خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں ہندکو پڑھانے کے لیے اساتذہ ناپید، نیا نصاب بحران کا شکار

پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ہندکو زبان کو نئے نصاب کا…

3 days ago