تعلیمی بورڈز میں طویل عرصہ تک اہم آسامیاں خالی رہنے کا ریکارڈ قائم،چیرمینز کی تعیناتی کی فائل بھی وزیر اعلی آفس میں التوا کا شکار

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)

صوبہ پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز اس وقت تاریخ کے بدترین انتظامی بحران کی لپیٹ میں ہیں جہاں طویل عرصے سے چیرمینز، سیکرٹریز اور کنٹرولر امتحانات جیسی اہم  سیٹوں پر مستقل تعیناتیاں مکمل نہیں ہو سکی ہیں ان اہم آسامیوں پر طویل تعطل نے جہاں تعلیمی بورڈز کے روزمرہ انتظامی امور کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، وہیں تعلیمی و عوامی حلقوں میں تشویش کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، پنجاب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اور اتنے طویل عرصے تک تعلیمی بورڈز کے سربراہان اور سینئر انتظامی افسران کی نشستیں خالی پڑی ہیں۔ بیشتر بورڈز "ایڈہاک ازم”کے تحت اضافی چارج یا قائم مقام افسران کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جو صرف "دن گزارنے” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور کوئی بھی طویل مدتی یا پالیسی ساز فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

ذرائع  کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن  ڈیپارٹمنٹ نے چیرمینز بورڈز کی تعیناتی کے لیے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اہل امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کر کے تین، تین امیدواروں کا پینل تیار کر کے حتمی منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو کئی ہفتے قبل بھجوا دیا  تھا تاہم، حیرت انگیز طور پر، یہ فائلیں کئی ہفتے گزرنے کے باوجود وزیر اعلیٰ ہاؤس میں "دب” کر رہ گئی ہیں وزیر اعلیٰ کے دستخط نہ ہونے کے باعث نہ تو فائل محکمہ میں واپس پہنچی ہے اور نہ ہی چیرمینز کی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن جاری ہو سکے ہیں

دوسری جانب، چیرمینز کی تعیناتی تو دور کی بات، بورڈز کے سیکرٹریز اور کنٹرولر امتحانات (جو امتحانی عمل کے روحِ رواں ہوتے ہیں) کی تعیناتیوں کا پراسیس  بھی تاحال مکمل نہیں ہو پایا ہے محکمہ ایچ ای ڈی مبینہ طور پر تاحال اس کے لیے  پراسیس کا عمل مکمل کرنے میں ناکام رہا ہےجس سے پورے نظام کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔

بورڈز میں اس انتظامی ڈیڈ لاک نے تعلیمی حلقوں بشمول اساتذہ، طلبہ، والدین، اور ماہرینِ تعلیم میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے ان اہم آسامیوں کے خالی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بورڈز میں رزلٹ کی تیاری، ڈگریوں کا اجراء، پرچوں کی چیکنگ کا نظام، نئی پالیسیوں کا نفاذ، اور ملازمین کے مسائل مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں تشویش ناک امر یہ ہے کہ قائم مقام افسران کے پاس مالیاتی اختیارات کی کمی اور فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہونے سے بورڈز کا پورا اسٹرکچر بیٹھ رہا ہے۔

تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ چیرمینز کی فائلوں پر فوری دستخط کریں اور محکمہ ایچ ای ڈی کو سیکرٹریز و کنٹرولرز کی تعیناتی کا عمل ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دیں، تاکہ امتحانی نظام کو کسی بڑے حادثے سے بچایا جا سکے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

سابقہ گولڈ میڈلسٹ امیدوار پی ایم ایس نتائج کے خلاف ہائیکورٹ پہنچ گئی

پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…

5 منٹس ago

لاہور، سندر کے علاقے میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو دھمکیاں دینے اور توڑ پھوڑ کرنے والا ملزم گرفتار

لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…

1 گھنٹہ ago

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…

3 گھنٹے ago

پروفیسرحضرت علی چیرمین تعلیمی بورڈ مردان تعینات

مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…

3 گھنٹے ago

پشاور، سرکاری جامعات میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل، رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…

4 گھنٹے ago

فرانس،طلبا کا احتجاج چھٹے روز میں داخل،1747گرفتار

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…

4 گھنٹے ago