حیدرآباد (ایجو کیشن رپورٹر) طلباء ایکشن کمیٹی سندھ کے زیرِ اہتمام مشترکہ مسابقتی امتحان 2024ء کے نتائج کے خلاف زبردست احتجاجی مارچ کیا گیا، جبکہ کمیٹی کی جانب سے کمیشن سیکریٹریٹ کے باہر احتجاجی کیمپ بھی قائم کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق احتجاجی مارچ کا آغاز علامہ شمس العلماء علامہ داؤد پوٹہ لائبریری سے ہوا، جہاں سے شرکاء مارچ کرتے ہوئے کمیشن کے دفتر پہنچے۔ احتجاجی مارچ کی قیادت فرمان مگسی، راجیش کمار، فخر الزمان، زیب علی اور دیگر طلباء رہنماؤں نے کی۔ اس مارچ اور دھرنے میں مختلف اضلاع کے متاثرہ امیدواروں کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی، علمی و ادبی شخصیات اور وکلاء برادری کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امتحانی نتائج اور کمیشن کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سی سی ای 2024ء کے نتائج میں میرٹ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اقربا پروری و غیر شفاف طریقہ کار اپنا کر مستحق و اہل امیدواروں کی حق تلفی کی گئی ہے۔
طلباء رہنماؤ ں نے واضح کیا کہ وہ ان متنازع نتائج کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پوری امتحانی و انتخابی عمل کی آزادانہ، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
احتجاجی ریلی سے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی رہنما روش علی بڑدی، پی ٹی آئی کے ذوالقرنین حیدر، اسلم لغاری ایڈووکیٹ، اور زرینہ بھٹو ایڈووکیٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا اور طلباء کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
عدالت کابینہ کا دفاتر کیلئے اراضی ایکوائر کا فیصلہ کالعدم قرار دے: درخواست گزاران لاہور…
20 لاکھ روپے اور 4 تولے سونا دینے کے بہانے کسٹم ڈیوٹی کے نام پر…
کراچی (سٹاف رپورٹر) جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد طفیل کو جامعہ…
بالاکوٹ(نمائندہ خصوصی) ناران سے لاہور واپسی کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے ملازمین کو لے جانے…
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ…
ویب ڈیسک نئی دہلی: بھارت میں NEET-UG امتحان کے پیپر لیک اور بے قاعدگیوں کے…