Categories: بریکنگ نیوز

لاہور میں دو روز کے دوران دوسرا بڑا سانحہ، سمر کیمپ کے دوران سکول کی چھت گرنے سے بچہ جاں بحق، متعدد زخمی

* کاہنہ حادثے کے ٹھیک دو دن بعد ویمن کالج روڈ پر افسوسناک واقعہ؛ ٹی آر گارڈر سے بنی مخدوش چھت اچانک بیٹھ گئی

* ریسکیو 1122 کا ہنگامی آپریشن، ملبے سے 4 زخمیوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، مزید افراد کی تلاش جاری

* تعلیمی اداروں کی عمارات کے حفاظتی معیار اور انتظامی نگرانی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے

لاہور (کرائم رپورٹر / ایجوکیشن رپورٹر)

صوبائی دارالحکومت لاہور میں مخدوش تعلیمی عمارات معصوم بچوں کے لیے موت کا کنواں بننے لگیں، کاہنہ سانحے کے بعد باغبانپورہ کے علاقے ویمن کالج روڈ پر واقع ایک اسکول کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اسکول میں سمر کیمپ کی کلاسز جاری تھیں۔

سمر کیمپ کے دوران ناگہانی حادثہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق ویمن کالج روڈ پر قائم اسکول کی عمارت میں بچے اور عملہ موجود تھے کہ اچانک ٹی آر گارڈر سے بنی ہوئی مخدوش چھت اپنا وزن برداشت نہ کر سکی اور پوری طرح نیچے آ گری۔ چھت گرنے کے باعث کمرے میں موجود معصوم بچے اور تدریسی عملہ ملبے کے نیچے دب گئے۔

ریسکیو 1122 کا ہنگامی آپریشن

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا اور ملبے تلے دبے 4 شدید زخمیوں کو نکال کر فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا۔ تاہم، ایک معصوم بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ امدادی ٹیموں کی جانب سے جائے وقوعہ پر ملبہ ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی اور بچہ یا عملے کا رکن ملبے تلے محصور نہ رہ گیا ہو۔

دو روز میں دوسرا سانحہ؛ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

واضح رہے کہ یہ دلخراش واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محض دو روز قبل ہی لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں سمیت 15 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دو روز کے مختصر وقفے میں دو مختلف تعلیمی مقامات پر چھتیں گرنے کے ان پے در پے واقعات نے اسکولوں، اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارات کی فٹنس، طلبہ کے تحفظ اور متعلقہ انتظامیہ کی نگرانی کے معیار پر بہت بڑے اور سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ والدین کی جانب سے مخدوش عمارات میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں فرنیچر کا بحران،26 ہزار سکولوں میں 15 لاکھ نشستوں کی کمی

پشاور (خصوصی رپورٹر) خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی میں سنگین انتظامی عدم مساوات…

22 منٹس ago

میلسی، 18 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت کے باوجود گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فار گرلز دوکوٹہ 4 سال بعد بھی فعال نہ ہو سکا

میلسی (ایجو کیشن رپورٹر) میلسی کے نواحی علاقے چک نمبر 145 ڈبلیو بی میں طالبات…

3 گھنٹے ago

ایمرسن یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سیاست اور غیر قانونی اجتماع کا الزام، 4 اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری

ملتان (ایجو کیشن رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز…

4 گھنٹے ago

قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ، 16 واں کانووکیشن 21 نومبر 2026 کو منعقد ہوگا

نوابشاہ (نمائندہ خصوصی) قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  نوابشاہ کے ترجمان نے اعلان…

4 گھنٹے ago

جی سی یو لاہور کے طالب علم کی 1100 کلومیٹر طویل ’لاہور تا سکردو‘ دوڑ چھٹے روز میں داخل یہ تاریخی مہم پاک فوج اور شہدائے وطن کے نام!

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے شعبہ نفسیات کے طالب علم…

14 گھنٹے ago

اسلامیہ کالج یونیورسٹی، ملازمین کی حاضری کے لیے بائیو میٹرک سسٹم لانچ، عملدرآمد 7 ستمبر سے ہوگا

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ملازمین کی حاضری اور چھٹی کے نظام کو…

14 گھنٹے ago