کراچی (سٹاف رپورٹر)
وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ نے تنخواہوں، پینشن، میڈیکل، ہاؤس سیلنگ اور دیگر واجب الادا بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کلب کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔
مظاہرے کے دوران اساتذہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طویل عرصے سے ان کے جائز مالی حقوق دبا رکھے ہیں۔ اساتذہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ:
احتجاجی اساتذہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے رویے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اساتذہ نے الزام عائد کیا کہ حق مانگنے پر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وائس چانسلر تنخواہوں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے اساتذہ کو کروڑوں روپے ہرجانے کے لیگل نوٹس بھجوا رہے ہیں، جبکہ خواتین اساتذہ کو بھی مسلسل ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اساتذہ نے یونیورسٹی کے چانسلر و صدرِ مملکت آصف علی زرداری، پرو چانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز اختر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے ان سنگین مالی اور انتظامی مسائل کا فوری طور پر نوٹس لیں اور اساتذہ کے جائز مطالبات کو حل کروائیں۔
راولپنڈی (این این آئی) آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت سابق…
کراچی (نیوز ڈیسک) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے سیکیورٹی انچارج پر ہونے والے قاتلانہ…
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ایریزونا میں اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل…
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد…