پشاور (سپیشل رپورٹر) آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (اپٹا) خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر عزیز اللہ خان نے صوبائی حکومت اور مشیر خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے پرائمری سکولوں میں خاکروب اور خالہ کی پوسٹ کی منظوری دی جائے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پرائمری سکولوں میں اس وقت ایک عجیب کشمکش ہے کہ اسکولوں میں صفائی کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟ محکمہ تعلیم اس کا واضح تعیین کرے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پرائمری اسکول میں ایک چوکیدار ہوتا ہے جس کا کہنا ہے کہ صفائی ہمارا کام نہیں،
پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار
جبکہ بعض مقامات پر جب کچھ لوگ سکول کی زمین کے مالک ہوتے ہیں تو وہ صفائی کی ڈیوٹی ہی نہیں کرتے۔ آج کل تو چوکیدار مقامی ایم پی اے کی سفارش پر بھرتی ہوتے ہیں اور ان کے ملازم بن جاتے ہیں۔

عزیز اللہ خان نے مزید کہا کہ اس وجہ سے پرائمری سکولوں میں صفائی اپنی مدد آپ کے تحت ہوتی ہے، اور اگر غلطی سے طلباء کو صفائی میں شامل کیا جائے تو طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ آخر کب تک یہ نظام ایسے چلے گا؟
انہوں نے وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری، وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم سے ہمدردانہ مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے میل پرائمری اسکولوں میں مرد خاکروب کی پوسٹ پیدا کی جائے جبکہ فی میل پرائمری اسکولوں میں خالہ کی پوسٹ کو بحال کیا جائے۔