BISE Lahore
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے نو تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینز کی تعیناتی کے لیے اہم ترین پیشرفت کرتے ہوئے حتمی منظوری کے لیے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دی ہے۔ اس اقدام سے گزشتہ دو برسوں سے تعلیمی بورڈز میں جاری ایڈہاک ازم اور مستقل قیادت کا بحران ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن کو مستقل چیئرمینز کی آسامیوں کے لیے سینکڑوں درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے ابتدائی سکروٹنی کے بعد 254 موزوں امیدواروں کو انٹرویوز کے لیے بلایا گیا۔ تفصیلی انٹرویوز اور سخت جانچ پڑتال کے عمل کے بعد محکمہ نے انتہائی قابل 18 امیدواروں کے نام شارٹ لسٹ کیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ میرٹ اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر تعلیمی بورڈ کے لیے 2، 2 موزوں امیدواروں کا پینل تیار کیا گیا ہے، جن کی فہرست وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو بھجوا دی گئی ہے۔
صوبے کے جن نو تعلیمی بورڈز (BISE) میں مستقل چیئرمینز کی تعیناتیاں کی جا رہی ہیں، ان میں شامل ہیں:
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس بار روایتی طریقوں سے ہٹ کر میرٹ کو اولیت دی گئی ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور کے لیے نہ صرف لاہور بلکہ لاہور سے باہر کے اضلاع کے قابل افسران کو بھی شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی بورڈز کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے یونیورسٹی کیڈر کے سینیئر افسران اور اساتذہ کے نام بھی پینل میں شامل کیے گئے ہیں تاکہ اعلیٰ تعلیم کا تجربہ رکھنے والی شخصیات بورڈز کا نظم و نسق سنبھال سکیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو سال سے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز مستقل چیئرمینز سے محروم ہیں اور قائم مقام چارج یا اضافی چارج کے ذریعے امور چلائے جا رہے تھے۔ مستقل سربراہان نہ ہونے کی وجہ سے امتحانی پالیسیوں، نتائج کی تیاری، اور دیگر تادیبی و انتظامی معاملات میں سست روی کا سامنا تھا۔۔”
پنجاب میں انٹر پارٹ 1 امتحانات کا آغاز 15 جون سے ، رول نمبر سلپس…
محکمہ تعلیم کے افسر کا غیر سنجیدہ رویہ اخلاقی گراوٹ کا ثبوت ہے، گریڈ 17…
لاہور/ملتان (نیوز ڈیسک) پنجاب بھر میں عید کی تعطیلات کے بعد ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ…
کراچی کی اسناد پشاور، لاہور کی کوئٹہ منتقل؛ تصدیق کرنے والے افسر اور امیدوار دونوں…
بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے ہائی اسکول کے طلبہ نے ایک منفرد اور شاندار کامیابی…
پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ہندکو زبان کو نئے نصاب کا…