پنجاب یونیورسٹی میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر آگاہی سیمینار کا انعقاد

جبری جرائم اور سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر ماہرین کی تفصیلی گفتگو؛ تمام طبقات کے مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)

پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز (ISCS) کے زیر اہتمام انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے ایک خصوصی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا موضوع "ہیومن ٹریفیکنگ: جبری جرائم اور سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات” تھا۔ اس تقریب کا انعقاد حکومت پنجاب، کراس ایج (CrossEdge) اور سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کے اشتراک سے کیا گیا۔

نمایاں شرکاء

سیمینار میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر سعید الٰہی، ایڈیشنل سیکریٹری ہوم و فوکل پرسن عائشہ ممتاز، ڈائریکٹر ISCS پروفیسر ڈاکٹر فرحان نوید یوسف، سمیت سرکاری و قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا، وکلاء اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سیمینار کے مقاصد اور اہم نکات:

  • آگاہی اور شعور: تقریب کا بنیادی مقصد ہیومن ٹریفیکنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت، خصوصاً جبری جرائم اور سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے کمزور طبقات کے استحصال کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔
  • وائس چانسلر کا خطاب: پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اپنے خطاب میں ہیومن ٹریفیکنگ کے خاتمے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
  • حکومتی اقدامات: ایڈیشنل سیکرٹری ہوم عائشہ ممتاز نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔
  • قانونی اور انتظامی پہلو: ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن سید زین العابدین نے ہیومن ٹریفیکنگ اور سائبر سہولت یافتہ مالی فراڈ کے باہمی تعلق پر گفتگو کی۔ کراس ایج کے چیف ایگزیکٹو بیرسٹر حارث رمضان نے متاثرین کے تحفظ اور بحالی میں سول سوسائٹی کے کردار پر بات کی۔
  • میڈیا اور قانونی برادری کا کردار: سینئر صحافی سلمان عابد نے عوامی آگاہی میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا، جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علی رضا کھوکھر نے ہیومن ٹریفیکنگ کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

اختتامی ریمارکس

پروفیسر ڈاکٹر فرحان نوید یوسف نے نوجوانوں میں ہیومن ٹریفیکنگ کی نئی شکلوں، خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے استحصال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیمینار کے اختتام پر ڈیجیٹل خواندگی، ادارہ جاتی تعاون اور مؤثر قانونی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

سابقہ گولڈ میڈلسٹ امیدوار پی ایم ایس نتائج کے خلاف ہائیکورٹ پہنچ گئی

پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…

3 گھنٹے ago

لاہور، سندر کے علاقے میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو دھمکیاں دینے اور توڑ پھوڑ کرنے والا ملزم گرفتار

لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…

4 گھنٹے ago

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…

6 گھنٹے ago

پروفیسرحضرت علی چیرمین تعلیمی بورڈ مردان تعینات

مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…

6 گھنٹے ago

پشاور، سرکاری جامعات میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل، رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…

6 گھنٹے ago

فرانس،طلبا کا احتجاج چھٹے روز میں داخل،1747گرفتار

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…

7 گھنٹے ago