پورے چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی کی خلاف ورزی پر بہت سی خواتین کو جرمانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا منصوبہ ‘متوازی معاشرے’ کی اصطلاح سے منسوب، جو ان علاقو کیلئے رائج ہے جہاں نصف تارکین وطن ہوں
برسلز (نیوز ڈیسک) اسکینڈینیوین ممالک کے بعد اب ڈنمارک میں بھی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں برقعے پر پابندی لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس منصوبے کو ‘متوازی معاشروں’ کا نام دیا گیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق بعض اسکینڈینیوین ممالک میں مسلم خواتین کے پہننے والے لباس پر پہلے ہی عوامی مقامات پر پابندی عائد ہے، لیکن اس اقدام سے اب ڈنمارک کے کلاس رومز تک اس پابندی کو وسعت ملے گی۔
ڈنمارک میں ‘متوازی معاشرے’ کی اصطلاح سے مراد ایسے رہائشی علاقے ہیں جہاں آدھے سے زیادہ باشندے تارکین وطن کے پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں۔ پورے چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی سب سے پہلے 2018ء میں ڈنمارک میں متعارف کرائی گئی تھی، اور جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے انہیں بھاری جرمانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کی طرف سے برقعہ پر پابندی کو اسکولوں اور یونیورسٹیوں تک توسیع دینے کے اقدام کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ کلاس رومز میں چہرے کو ڈھانپنے کا استعمال عام نہیں ہے۔ ممکنہ طور پر اب حکومت نئی ایسی قانون سازی کی تجاویز پیش کرے گی جنہیں انتخابات سے قبل (پارلیمنٹ سے) منظور نہیں کیا گیا تھا۔
کراچی (سپیشل رپورٹر) محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے روایتی کاغذی کارروائی کا خاتمہ کرتے ہوئے پرائمری…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کے زیرِ نگرانی اور ایلیمنٹری…
پشاور (سپیشل رپورٹر) جامعہ پشاور کے سنڈیکیٹ نے سلیکشن بورڈ کی توثیق کرتے ہوئے متعدد ایسوسی…
کمالیہ ( ایجو کیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف کمالیہ کے بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی روابط کے…
لاہور (سپیشل رپورٹر) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد…
کوئٹہ (سپیشل رپورٹر) صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کی جانب سے کوئٹہ کے 21…