کاہنہ میں چھت گرنے کا معاملہ ،وزیر تعلیم کے بیان اور ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ میں تضاد

کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کا معاملہ؛ وزیر تعلیم کے بیان اور ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ میں تضاد سامنے آگیا

* وزیر تعلیم کے مطابق خاتون محلے کے بچوں کو پڑھا رہی تھی، ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ میں صرف رشتہ داروں کے بچے ہونے کا دعویٰ

* حادثے کے شکار گھر میں 25 سے 30 بچے موجود تھے، رہائشی گھروں میں قائم ٹیوشن سنٹرز کی رجسٹریشن کا کوئی نظام نہیں: سی ای او طارق محمود

لاہور (نیوز رپورٹر)

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے پر وزیر تعلیم پنجاب اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آگیا ہے۔ دونوں حکام کی جانب سے واقعے کی نوعیت کے حوالے سے الگ الگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔

بیانات میں تضاد کی تفصیلات

  • وزیر تعلیم کا موقف: صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے مطابق یہ کوئی باقاعدہ سکول یا اکیڈمی نہیں تھی، بلکہ ٹیچر ایک پسماندہ علاقے میں اپنے گھر کے اندر محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھی۔
  • ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ: اس کے برعکس ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کی تیار کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون محلے کے نہیں، بلکہ صرف اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اظہارِ افسوس

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی ہلاکت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور وہ غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیر تعلیم نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور بتایا کہ سی ای او ایجوکیشن موقع پر موجود ہیں۔

ایجوکیشن اتھارٹی کی انکوائری رپورٹ

ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر کے ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. حادثے کا شکار ٹیوشن سینٹر ایک رہائشی گھر میں قائم تھا اور کسی بھی سرکاری ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا۔
  2. حادثے کے وقت گھر کے اندر 25 سے 30 بچے موجود تھے۔

سی ای او ایجوکیشن طارق محمود کا اہم مؤقف:

سی ای او لاہور طارق محمود کا کہنا ہے کہ گھروں میں قائم ایسے نجی ٹیوشن سینٹرز محکمہ تعلیم کے دائرہ رجسٹریشن میں ہی نہیں آتے اور فی الحال ان کی رجسٹریشن کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ اب اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

کے پی کے سکولوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کا بحران، 37 ہزار کمرے تعمیرِ نو اور مرمت کے منتظر

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی ابتر صورتحال سامنے آئی…

42 منٹس ago

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں فرنیچر کا بحران،26 ہزار سکولوں میں 15 لاکھ نشستوں کی کمی

پشاور (خصوصی رپورٹر) خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی میں سنگین انتظامی عدم مساوات…

1 گھنٹہ ago

میلسی، 18 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت کے باوجود گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فار گرلز دوکوٹہ 4 سال بعد بھی فعال نہ ہو سکا

میلسی (ایجو کیشن رپورٹر) میلسی کے نواحی علاقے چک نمبر 145 ڈبلیو بی میں طالبات…

3 گھنٹے ago

ایمرسن یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سیاست اور غیر قانونی اجتماع کا الزام، 4 اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری

ملتان (ایجو کیشن رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز…

5 گھنٹے ago

قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ، 16 واں کانووکیشن 21 نومبر 2026 کو منعقد ہوگا

نوابشاہ (نمائندہ خصوصی) قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  نوابشاہ کے ترجمان نے اعلان…

5 گھنٹے ago

جی سی یو لاہور کے طالب علم کی 1100 کلومیٹر طویل ’لاہور تا سکردو‘ دوڑ چھٹے روز میں داخل یہ تاریخی مہم پاک فوج اور شہدائے وطن کے نام!

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے شعبہ نفسیات کے طالب علم…

15 گھنٹے ago