پشاور (نامہ نگار)
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے تحت جاری “ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام” اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا ہے، تاہم منصوبے کے خاتمے سے قبل قیمتی سرکاری سامان کی گمشدگی اور ملازمین کو جاری کیے گئے نوٹسز کے حوالے سے نئے سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام 30 جون کو باضابطہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے 23 ملازمین کو سرکاری اثاثوں کی واپسی اور کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
ملازمین کو جاری کردہ نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل کریں، سرکاری ریکارڈ جمع کرائیں اور ان کے زیرِ استعمال تمام سرکاری سامان فوری طور پر واپس کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے دوران استعمال ہونے والا قیمتی سرکاری سامان تاحال ریکارڈ کے مطابق واپس نہیں آیا ہے۔ لاپتہ اور غائب ہونے والے سامان میں درج ذیل قیمتی اشیاء شامل ہیں:
اس سنگین معاملے کے حوالے سے جب ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نور شیر آفریدی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ابتدائی طور پر کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ تاہم، خبر فائل کیے جانے تک ان سے دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا اور نہ ہی انہوں نے اس حوالے سے اپنا کوئی تفصیلی مؤقف فراہم کیا۔
اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ…
حکومتِ سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن…
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) حکومتِ پنجاب نے صوبے کے طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی…
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو…
پنجاب میں تعلیم دوست اقدام: ’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے…
اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر…