spot_img

ذات صلة

جمع

پنجاب 5ویں اور 8ویں کے امتحانات پیکٹا کے تحت ہوں گے، فروری 2027 کی تاریخ طے

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے...

پشاور کے 45 نجی سکولوں میں غیر قانونی افغان طلبہ کے داخلوں کا انکشاف

پشاور (نامہ نگار) پشاور کے 45 نجی سکولوں میں...

اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کی تنخواہیں بند

پشاور (نامہ نگار) وفاقی محتسب خیبر پختونخوا کے حکم پر...

پشاور یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں میں جھڑپ، فائرنگ، متعدد زخمی

پشاور (سپیشل رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو فریقین کے...

جامعات میں نگران دور کی بھرتیاں درست قرار، پشاور ہائیکورٹ نے برطرفی کا حکومتی مراسلہ کالعدم قرار دے دیا

پشاور (کورٹ رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری جامعات میں نگران حکومت کے دور میں ہونے والی ٹیچنگ اور انتظامی سٹاف کی برطرفی کے خلاف دائر متعدد رٹ درخواستیں منظور کر لیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے برطرفی کے لیے جاری مراسلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالتی کارروائی اور وکلاء کے دلائل
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے شائل احمد بٹ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر کول، جہانزیب محسود، شمس الہادی اور افضل ہادی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ

صوبائی حکومت نے ملازمین کی برطرفی سے متعلق 2025 کا ایک قانون پاس کیا جس کے تحت نگران دور کی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر تمام افراد کو برطرف کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

کابینہ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد اگست 2025 میں ایک اجلاس اور ستمبر 2025 میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تمام جامعات کو مراسلہ بھیجا گیا تھا جس میں نگران دور کے ٹیچنگ و انتظامی افسران کو برخاست کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

نگران حکومت کے پاس ان تقریوں کا کوئی اختیار نہیں تھا لیکن صوبائی حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا کیونکہ جامعات صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام ادارے نہیں ہیں بلکہ وہ خودمختار ادارے ہیں اور اپنے قانون، سینڈیکیٹ اور سینیٹ کے تحت چلتے ہیں۔

کراچی، بااثر ہوٹل مالک کے بیٹے کا یونیورسٹی پروفیسر پر تشدد، جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی تعلیمات کے چیئرمین لہولہان، وزیرِ داخلہ کا نوٹس

نگران حکومت کے دور میں ہونے والی یہ بھرتی سلیکشن بورڈز کے ذریعے کئی سالوں سے زیرِ التوا تھیں اور عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا، اس لیے برطرفی کا یہ قانون خود مختار جامعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

40 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
جسٹس کامران حیات میانخیل کے تحریر کردہ 40 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ

صوبائی اختیارات کی حدود نگران حکومت کے فیصلوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کا پاس کردہ قانون صرف ان کے اپنے زیرِ انتظام محکموں پر لاگو ہوتا ہے، خود مختار جامعات کے اپنے ایکٹ اور اپنے سلیکشن بورڈ ہوتے ہیں۔

پیپلز پارٹی رٹ کا حوالہ عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی اس رٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں نگران حکومت کی جانب سے کی گئی برطرفیوں کو چیلنج کیا گیا تھا اور عدالت نے قرار دیا تھا کہ نگران حکومت کا کام صرف شفاف الیکشن اور روزمرہ کے امور کی دیکھ بھال ہے، نہ کہ پالیسی سازی۔

برطرفیوں اور مراسلے کو کالعدم قرار دیا عدالت نے حکومت کی جانب سے جاری تمام نوٹسز اور مراسلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو پچھلی تاریخوں سے بحال کر کے ان کی تنخواہیں اور دیگر مراعات فوری طور پر ادا کی جائیں۔

spot_imgspot_img