کراچی (نیٹ نیوز) جامعہ کراچی کے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے قائم مقام وائس چانسلر کے دو ماہ کے مختصر عرصے میں امتحانی نتائج
میں بڑے پیمانے پر ردوبدل اور فرضی اسکروٹنی کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی تحریری
سفارش اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری سے ایس ایم لا کالج اور اسلامیہ لا کالج کے 150 سے زائد فیل طلبہ کو بی اے ایل ایل بی
میں کم از کم 2 مضامین میں پاس کر دیا، جن میں سے متعدد کے پرچوں میں صفر یا کم نمبرز تھے جنہیں 50 سے 65 نمبرز دیے گئے
ذرائع کے مطابق سابق مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اپنے دور میں اجتماعی درخواستوں پر اسکروٹنی کو قوانین کے خلاف قرار
دے کر روک دیا تھا، تاہم ان کے بعد فرضی اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دے کر منظوری لی گئی۔ رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو کے
مطابق نتائج کی تبدیلی قانونی طریقہ کار کے تحت ہوئی تاکہ 89 فیصد فیل طلبہ کی زیادہ سختی کو کم کیا جا سکے، جبکہ ناظم امتحانات
ڈاکٹر یاسر نے معاملے کی صحتیابی اور کسی فیل طالب علم کو پاس کرنے کی تردید کی ہے۔ یہ تمام تر صورتحال نئے وائس چانسلر ڈاکٹر
وسیم قاضی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے