کراچی (ایجوکیشن رپورٹر ) جامعہ کراچی میں ہاؤس رینٹ سیلنگ میں اضافے کے باعث ادارے کو شدید مالی بحران اور ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر یا ناغے کے سنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر فنانس جامعہ کراچی نے وائس چانسلر کو ایک رسمی سمری ارسال کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ 1,897 ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کے 4 نومبر 2025 کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں یکم نومبر 2025 سے ہاؤس رینٹل سیلنگ میں اضافے کی تجویز ہے۔
سمری کے مطابق ہاؤس رینٹ میں اضافے کے بعد جامعہ کا ماہانہ خرچ 5 کروڑ روپے سے بڑھ کر 9 کروڑ 25 لاکھ 80 ہزار روپے ہو جائے گا، جس سے ادارے پر ماہانہ 4 کروڑ 25 لاکھ 36 ہزار 893 روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ سالانہ بنیادوں پر یہ اخراجات 60 کروڑ 5 لاکھ روپے سے بڑھ کر 111 کروڑ 9 لاکھ 60 ہزار روپے سے تجاوز کر جائیں گے،
ایچ ای سی کا فل برائٹ اسکالر پروگرام 2027ء کا اعلان، درخواستیں 28 اکتوبر 2026ء تک طلب
جس کے نتیجے میں جامعہ کو سالانہ تقریباً 51 کروڑ 4 لاکھ 42 ہزار روپے کے اضافی فنڈز درکار ہوں گے۔ صرف یکم نومبر 2025 سے آٹھ ماہ کا اضافی مالی اثر 34 کروڑ 2 لاکھ 95 ہزار 144 روپے بنتا ہے۔
نئے نرخوں کے تحت گریڈ 1 سے 9 تک کے ملازمین کے لیے ہاؤس رینٹ کی ماہانہ شرح 12 ہزار 193 روپے سے 1 لاکھ 31 ہزار 548 روپے تک مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر فنانس نے خبردار کیا ہے کہ جامعہ کے موجودہ نقدی کے تخمینے اس مستقل اضافے کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور فوری سرکاری امداد نہ ملنے کی صورت میں سال کے دوران نقدی ختم ہو سکتی ہے، جس سے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی روکنے کا شدید اندیشہ ہے۔
حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈائریکٹر فنانس نے حکومت سے اضافی ہاؤس رینٹ کے لیے خصوصی گرانٹ کی سفارش کی ہے۔ علاوہ ازیں، کیمپس کے رہائشی کوارٹرز میں بجلی کے الگ میٹرز کی تنصیب کے لیے 50 کروڑ روپے اور بجلی کے بھاری بلوں میں کمی کے لیے سولر پینل سسٹم کی تنصیب کی خاطر 80 کروڑ روپے کی الگ گرانٹس فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔