ملتان (ایجوکیشن رپورٹر)موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں آم کی جدید کاشت، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور
مینگوسمال ٹری سسٹم کی افادیت سے کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کے لیے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان میں
ایک اہم ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کی۔
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی اساتذہ کا جھگڑا، سکیورٹی آفیسر کے خلاف مقدمہ درج، گرفتاری نہ ہو سکی
ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا "جنوبی پنجاب کے آم اپنی منفرد
خصوصیات اور اعلیٰ معیار کے باعث عالمی سطح پر نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ زرعی یونیورسٹی ملتان جدید تحقیق
اور پیداواری ٹیکنالوجیز کو کاشتکاروں تک پہنچانے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے تاکہ بدلتے موسمی حالات میں آم
کی پیداوار اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔”
انہوں نے مزید زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے اور جنوبی پنجاب کے آم کو عالمی منڈیوں میں
زیادہ موثر انداز میں متعارف کرانے کے لیے سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور کاشتکاروں کے درمیان روابط کو
مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عبدالغفار گریوال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مینگو سمال ٹری سسٹم کی کامیابی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے ،
یے بروقت کانٹ چھانٹ (پروننگ)، متوازن کھادوں کا استعمال ، باغات کی مناسب اور مسلسل دیکھ بھال بنیادی
اہمیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر مبشر مہدی، ڈائریکٹر مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر آصف الرحمن، میجر طارق
خان، جہاں زیب دھرالہ، ملک ظفر مہے، مظفر حیات خاکوانی، خواجہ شعیب، غلام قادر بھٹہ، آصف حیات ٹیپو،
کاشف کچی، ڈاکٹر کاشف رضا اور ڈاکٹر سمیع اللہ سمیت دیگر اہم شخصیات اور کاشتکار بھی موجود تھے۔