حیدرآباد (نمائندہ حصوصی) سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے ساتھ
ناانصافیوں کے خلاف طلبہ نے حیدرآباد سے کراچی کی طرف پیدل لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ سندھ اسٹوڈنٹس
ایکشن کمیٹی کی جانب سے سندھ پبلک سروس کمیشن کی مرکزی سیکریٹریٹ بلڈنگ کے سامنے جمعہ کے روز بھی
احتجاج جاری رکھا گیا جس میں مختلف سیاسی و قوم پرست جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع
پر عوامی تحریک کے مرکزی رہنما نور احمد کاتیار، سندھی شاگرد تحریک کے ایاز لغاری، رمیش رباڑی، سجاگ بار
تحریک کے سرمد سائیں داد خاصخیلی، شعیب بھٹو اور عوامی تحریک حیدرآباد کیسر مدراچپرو و دیگر نے خطاب کرتے
ہوئے کہا کہ میرٹ کی پامالی سندھ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے، سندھ کے نوجوان برسوں محنت کر کے مسابقتی
ایچ ای سی ، 38 جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کے نئے داخلوں پر عارضی پابندی برقرار
امتحانات کی تیاری کرتے ہیں لیکن ایس پی ایس سی کی انتظامیہ پیپلزپارٹی کی سرپرستی میں رشوت کا بازار گرم
کر کے لاکھوں نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کے خوابوں کو قتل کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ایس اے 2024
کے نتائج اور امتحانی عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن قائم کیا
جائے، اعتراضات کی شفاف تحقیقات کر کے دوبارہ امتحان منعقد کرایا جائے، سی ایس اے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر
کی حد 35 سال اور ون پیپر امتحانات کے لیے 43 سال مقرر کی جائے، نیز امتحانات دینے کے مواقع 3 بڑھا کر 5 کیے
جائیں اور انجینئرنگ کیڈر کے انٹرویوز کے اعتراضات دور کر کے دوبارہ انٹرویوز لیے جائیں، جس کے بعد طلبہ کی بڑی
تعداد وجاہت ہنگورجو، ذبیح اللہ مستوئی، فخر زمان کھوہارو، نجیب اللہ اور دیگر طلبہ رہنماؤں کی قیادت میں کراچی
کی طرف روانہ ہو گئی