ٹنڈوالہ یار (نمائندہ خصوصی) پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پیر کے روز سندھ بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور اسٹیشنز پر مطالبات کی منظوری کے لیے ریلیاں نکالی گئیں اور بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے،
جن میں شرکاء نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ ٹنڈوالہ یار میں ریلی اور بھوک ہڑتال کی دھمکی
ٹنڈوالہ یار میں پ ٹی الف سٹی صدر عبدالرزاق شاہ اور جنرل سیکریٹری ہوش محمد مگنھار کی قیادت میں مین سندھی پرائمری اسکول سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر اساتذہ رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کال پر ریلی نکالی گئی ہے،
اگر 14 سے 16 اکتوبر تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیو میٹرک اور فیس رجسٹریشن کی آڑ میں صرف بھتہ خوری بڑھ رہی ہے جبکہ نظام میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ حکومت اصلاحات کے نام پر جتنا پیسہ خرچ کر رہی ہے، وہ اسکول بلڈنگز اور بچوں کی تعلیم پر لگایا جائے۔
بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں طلبہ کے درمیان جھگڑا، صلح کرا دی گئی
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم سے اساتذہ کی بے چینی ختم کرنے اور جائز مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
سانگھڑ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے اساتذہ نے ہیلتھ کارڈ کے اجراء، سروس اسٹرکچر کی فراہمی اور دیرینہ مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں مرکزی صدر محمد رفیق نظامانی، ملک ثناء اللہ، علی حسن سریوال، قمر احمد صدیقی، محمد اعظم جٹ، عبدالغفور رند اور دیگر اساتذہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
بدین میں پ ٹی الف کی جانب سے اساتذہ کے مطالبات کے حق میں سید حسن شاہ، دھنی بخش نوتکانی اور شکیل احمد میمن کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو سروس اسٹرکچر فراہم کیا جائے اور پرائمری اسکول ٹیچرز سے ہائی اسکول ٹیچرز کے عہدوں پر ترقی کے لیے محکمہ جات ترقیاتی کمیٹی (کا اجلاس فوری طور پر منعقد کیا جائے۔ علاوہ ازیں، مظاہرین نے حب اور کلسٹر اسکولوں کا پروگرام ختم کر کے پرائمری اسکولوں کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔