پیرس (نیٹ نیوز) فرانس میں تعلیمی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور مختلف شہروں میں تعلیمی سہولتوں کی
عدم دستیابی، اساتذہ کی شدید قلت، کلاس رومز میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تعلیمی نظام میں فوری
اصلاحات کے مطالبات کو لے کر طلبہ کے احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔
اس سلسلے میں گزشتہ روز بھی متعدد تعلیمی اداروں اور جامعات میں طلبہ نے بھرپور احتجاج کیا اور بعض مقامات
پر تعلیمی اداروں کے اہم راستے مکمل طور پر بلاک کر دیے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
تعلیمی بحران اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو قابو کرنے کے لیے فرانسیسی حکومت نے 3 ہزار متبادل اساتذہ
فوری طور پر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم احتجاجی طلبہ نے حکومت کے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے رد کر
دیا ہے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ محض عارضی اساتذہ کی فراہمی سے نظام کی بنیادی خامیوں کو دور نہیں کیا
جا سکتا۔ طلبہ نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 17 اکتوبر کو ملک گیر سطح پر مزید بڑے احتجاج کا اعلان بھی
کر دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں تعلیمی اداروں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔