لیہ(نمائندہ حصوصی) صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیرِ صدارت یونیورسٹی آف لیہ کا سنڈیکیٹ اجلاس
منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران بعض امور میں بے ضابطگیوں کی موصول ہونے والی شکایات پر وزیر تعلیم نے متعلقہ
افسران کے خلاف فوری انکوائری کی ہدایت جاری کر دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شفاف انکوائری مکمل کر کے رپورٹ
اگلے سنڈیکیٹ اجلاس میں پیش کی جائے، اور ادارے میں کرپٹ عناصر سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کی بھرتی سنڈیکیٹ کی اجازت سے مشروط ہوگی اور ہر
نئی بھرتی کا مکمل ریکارڈ سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر تعلیم نے یونیورسٹی آف لیہ میں گزشتہ دو سالہ انرولمنٹ کے اہداف، اسکالرشپ
پروگرامز اور لیپ ٹاپ اسکیم پر بھی تفصیلی بریفنگ لی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2024 میں یونیورسٹی میں
نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں سماجی بہبود پر خصوصی آگہی سیشن کا انعقاد
زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد 3,110 تھی جو سال 2026 میں بڑھ کر 6,910 ہو چکی ہے۔ مزید برآں، گزشتہ دو سالوں
میں یونیورسٹی میں 11 نئے ڈگری پروگرامات کا اضافہ کیا گیا ہے، جن میں 6 بی ایس پروگرامات، 3 ایم فل، ایک ڈی
وی ایم اور دیگر پروگرامات شامل ہیں۔ اس عرصے میں یونیورسٹی میں ڈے کیئر سنٹر، مائیکرو بائیولوجی لیب، فش
فارم کا قیام اور دو گرلز ہاسٹلز کی اپ گریڈیشن بھی مکمل کی گئی ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چیف منسٹر پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت یونیورسٹی آف لیہ کے 1,000 سے زائد طلبہ
مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ دو سالوں میں مجموعی طور پر 1,081 طلبہ میں 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد
مالیت کی اسکالرشپس تقسیم کی جا چکی ہیں۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ضلع لیہ کے
کالجوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت کو مزید بڑھاتے ہوئے جلد 12 نئی بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
وزیراعلیٰ پنجاب کی تعلیمی اصلاحات کی بدولت پنجاب کی سرکاری جامعات کے معیارِ تعلیم میں مسلسل بہتری آ
رہی ہے اور داخلوں کے رجحان میں ماضی کے مقابلے میں دگنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔