Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img

بلوچی طلبہ کے لیے 460 اسکالرشپس کا اعلان

بین الصوبائی تعلیمی ہم آہنگی، حکومتِ پنجاب کا بلوچستان کے طلبہ کے لیے 460 اسکالرشپس کا اعلان کوئٹہ (نیوز ڈیسک) حکومتِ پنجاب نے بین الصوبائی...
Homeتازہ ترینپشاور میں سرکاری کتب کی غیر قانونی فروخت کے خلاف بڑے کریک...

پشاور میں سرکاری کتب کی غیر قانونی فروخت کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ

اشرف روڈ، صدر بازار اور چکہ گلی سمیت مختلف علاقوں میں 55 سے زائد دکانوں کی نشاندہی؛ پرائیویٹ اسکولوں کو کتب سپلائی کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور میں سرکاری اسکولوں کے لیے مختص مفت درسی کتابوں کی اوپن مارکیٹ میں غیر قانونی فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

اہم انکشافات اور کارروائی: ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف تجارتی مراکز بشمول اشرف روڈ، اندرون کریم پورہ، چکہ گلی، صدر بازار اور ڈھکی نعلبندی میں 55 سے زائد ایسی دکانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سرکاری درسی کتب سرِ عام فروخت کی جا رہی ہیں۔

نیٹ ورک کی تفصیلات: رپورٹ کے مطابق فقیر آباد کے علاقے میں ایک ایسا نیٹ ورک بھی بے نقاب ہوا ہے جو نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری کتب کی فراہمی میں ملوث ہے۔

  • حیران کن انکشاف: یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرکاری اسکولوں کے لیے مفت مختص یہ کتابیں نجی اسکولوں کو 10 فیصد کمیشن یا رعایت پر فروخت کی جا رہی تھیں۔
  • نجی شعبے کا ملوث ہونا: تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ایک مخصوص طبقہ ان کتب کو سستے داموں خرید کر اپنے طلبہ کو مہنگے داموں فراہم کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل: انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کی چوری اور طلبہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نشاندہی کی گئی دکانوں اور گوداموں پر چھاپوں کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ اس غیر قانونی سپلائی چین کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔