فلوریڈا (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک طالبہ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے متعلق سوشل میڈیا پر متنازع پیغام شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا۔ یونیورسٹی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طالبہ کے پیغام کو "بمباری کی دھمکی” تصور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا ہے۔
واقعے کی تفصیل: رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تقریباً 215 طلبہ پر مشتمل ایک واٹس ایپ گروپ میں یونیورسٹی کے آئندہ پروگرام کے حوالے سے گفتگو جاری تھی۔ اس دوران طالبہ نے ایک پیغام بھیجا جس میں لکھا گیا تھا کہ:
"نیتن یاہو، اگر آپ میری آواز سن سکتے ہیں تو ہمارے لیے ‘اوشن بینک کانووکیشن سینٹر’ میں کچھ بم گرا دیں۔”
قانونی کارروائی اور پولیس کا موقف: پولیس کا کہنا ہے کہ اس پیغام کو یونیورسٹی کی عمارت اور وہاں موجود طلبہ کے لیے ایک ممکنہ خطرہ اور حملے کی دھمکی سمجھا گیا۔ امریکی قوانین کے تحت تعلیمی اداروں یا عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے پیغام کو، چاہے وہ مذاق یا طنز ہی کیوں نہ ہو، انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
سزا کا امکان: قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت میں طالبہ پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو اسے 15 سال تک قید کی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر حساس موضوعات اور اداروں سے متعلق گفتگو کے دوران احتیاط برتنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
آزاد کشمیر (ایجوکیشن رپورٹر) میرپور تعلیمی بورڈ آزاد کشمیر کے زیرِ اہتمام نہم جماعت کے…
اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ماڈل کالج برائے طالبات ایف - 6 / 2…
مظفرآباد (نمائندہ حصوصی) میرپور تعلیمی بورڈ نے ایف اے اور ایف ایس سی (پارٹ اول…
واشنگٹن (نیٹ نیوز) ہارٹ فورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی طلبہ کے وفد نے واشنگٹن میں…
کوئٹہ (ایجو کیشن رپورٹر) بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی بی آئی ایس ای)…
لاہور (سپیشل رپورٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی مارکنگ ٹیم کی شدید…