اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے 10 فیصد غریب و مستحق طلبہ کو مفت تعلیم دینے کے قانون کے خلاف دائر درخواست پر نجی تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 3 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔
کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ریگولیٹری اتھارٹی نے 10 جولائی سے پہلے نجی اسکولوں سے 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کی تفصیلات مانگی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ حکومت نجی اسکولوں کو کوئی فنڈز یا کوٹہ فراہم نہیں کر رہی، لہٰذا مفت تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نجی اداروں کی نہیں۔
سماعت کے موقع پر صدر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن بھی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ اگر اس طرح کے قوانین زبردستی لاگو کیے گئے تو پرائیویٹ اسکولز بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔
نجی اسکولوں کے اس مؤقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے
“اگر آپ ایک کلاس میں 18 بچوں کو پڑھا سکتے ہیں تو مزید دو بچوں کو پڑھانے میں کیا مسئلہ ہے؟ آپ نے بچوں کو پڑھانا ہے، اس طرح کی باتیں نہ کریں۔ اگر آپ کے پاس جگہ نہیں ہے تو اسکول بند کر دیں۔”
عدالت عالیہ نے نجی اسکولوں کی جانب سے مفت تعلیم دینے کی مخالفت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 اگست تک ملتوی کر دی اور متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے نجی تعلیمی اداروں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی…
وفاقی اردو یونیورسٹی: مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان، امتحانات منعقد…
اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی کوتاہی بے نقاب؛ ایم پی…
کراچی (اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے ادارے کو عالمی معیار کی…
سکولوں اور اکیڈمیز کو فٹنس سرٹیفکیٹ لینا ہوگا ورنہ سیل ہوں گے۔ وزیر تعلیموالدین غیر…
ملتان (خصوصی رپورٹر)بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی خاتون پروفیسر کو مبینہ طور پر دھمکیاں…