کراچی (اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے ادارے کو عالمی معیار کی پائیدار یونیورسٹی بنانے کے لیے جامع “یونیورسٹی سسٹین ایبلٹی پالیسی اینڈ امپلیمنٹیشن روڈ میپ (2026-2029)” متعارف کروا دیا ہے۔ یہ پالیسی وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین (ستارہِ امتیاز، تمغہِ امتیاز) نے خود تیار کی اور اسے یونیورسٹی کے تمام اہم تعلیمی و انتظامی سربراہان کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا۔
پالیسی کی بریفنگ کے لیے منعقدہ اجلاس میں مشیر برائے وائس چانسلر، رجسٹرار، تمام ڈینز، شعبہ جات کے چیئرپرسنز، ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ پالیسی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف ($SDGs$) اور عالمی معیار کے سسٹین ایبلٹی فریم ورک کے عین مطابق تیار کی گئی ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
اس موقع پر وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد ماحولیات کے تحفظ، سماجی ذمہ داری اور بہتر انتظامی نظام کو یونیورسٹی کے تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معاملات کا مستقل حصہ بنانا ہے تاکہ ادارے کو جدید اور عالمی معیار کے سانچے میں ڈھالا جا سکے۔
پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے نجی تعلیمی اداروں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی…
وفاقی اردو یونیورسٹی: مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان، امتحانات منعقد…
اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی کوتاہی بے نقاب؛ ایم پی…
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے…
سکولوں اور اکیڈمیز کو فٹنس سرٹیفکیٹ لینا ہوگا ورنہ سیل ہوں گے۔ وزیر تعلیموالدین غیر…
ملتان (خصوصی رپورٹر)بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی خاتون پروفیسر کو مبینہ طور پر دھمکیاں…