لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کے نئے تعینات ہونے والے مستقل چیئرمینوں کا ایک اہم تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں امتحانی نظام میں انقلابی اصلاحات، شفافیت کی بالادستی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر تعلیم نے نئے چیئرمینز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے تعلیمی ویژن اور حکومت کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب امتحانی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بوٹی مافیا، نقل مافیا اور امتحانی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگیوں کے خلاف حکومت کی “زیرو ٹالرنس پالیسی” بدستور برقرار رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی بورڈز میں موجود بدعنوان عناصر اور کسی بھی قسم کے مافیا کا مکمل خاتمہ تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ اور آئینی ذمہ داری ہے۔
وزیر تعلیم نے سخت ہدایات جاری کیں کہ امتحانی عمل اور نتائج کی تیاری میں فوری طور پر ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سپلیمنٹری امتحانات میں “آن لائن اسکرین مارکنگ” (Online Screen Marking) کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت کی۔
رانا سکندر حیات نے نئے چیئرمین بورڈز پر زور دیا کہ وہ جاری اصلاحات کے تسلسل کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا، “آپ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے امین ہیں اور آپ کو اس اہم مینڈیٹ کا حق ادا کرنا ہوگا۔”
وزیر تعلیم نے چیئرمینوں کو ہدایت کی کہ وہ مارکنگ سنٹرز کے دوروں کو اپنے معمول کا حصہ بنائیں، غلط پیپر چیک کرنے والوں کا مؤثر احتساب یقینی بنائیں اور اس بات کی ضمانت دیں کہ کسی بھی طالبعلم کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے۔ انہوں نے امتحانی مراکز میں طلبہ کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی سخت ہدایت کی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز کی سطح پر اسٹیم ، مباحثوں اور کھیلوں کے مقابلوں کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے تاکہ طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
یاد رہے کہ پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز گزشتہ 3 سے 4 سال سے مستقل چیئرمینوں سے محروم تھے، جس کے باعث انتظامی امور قائم مقام چیئرمینوں کے طور پر متعلقہ کمشنرز چلا رہے تھے۔ اب حکومت نے مستقل چیئرمینوں کی تعیناتی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
نئے تعینات ہونے والے چیئرمینوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
پنجاب یونیورسٹی سینڈیکیٹ میں روزنامہ خبریں کی گونج ، اجلاس میں کرپشن اور مخالفت کے…
* تمام رجسٹریشن سرکاری اسکولوں کے آفیشل لاگ اِن کے ذریعے ہوگی؛ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز…
لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور میں 135 سرکاری سکولوں کی خطرناک اور شدید خستہ…
* لاہور میں 14 ہزار میں سے صرف 6 ہزار سکولوں کا آن لائن سروے…
یو ای ٹی ای کیٹ 2026؛ پوزیشن ہولڈر طلبہ کے اعزاز میں پروقار تقریب کا…
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور میں انتظامی افسران کی باہمی…