ایم بی بی ایس میں سیکنڈ ڈویژن ہولڈرز بھی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر بننے کے لیےاہل قرار،طبی و تعلیمی حلقوں کی شدید تنقید

لاہور ( تعلیمی رپورٹر)

سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے نیا اہلیت کا معیار مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے تحت عمر، تدریسی تجربے اور تعلیمی قابلیت سے متعلق نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ تاہم، ان نئے قواعد و ضوابط کے سامنے آتے ہی مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر سخت تنقید اور بحث کا آغاز ہو گیا ہے، کیونکہ بعض شقوں کو میرٹ کے اصولوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکنڈ ڈویژن پر وائس چانسلرشپ؟

نئے مجوزہ معیار کے مطابق، جہاں ایک طرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ امیدوار کم از کم 10 سال بطور پروفیسر خدمات انجام دے چکا ہو اور اس کے پاس پوسٹ گریجویشن یا پی ایچ ڈی ڈگری کے ساتھ کم از کم 20 تحقیقی اشاعتیں (پبلیکیشنز) ہونا لازمی ہیں، وہیں دوسری طرف بنیادی تعلیمی قابلیت میں غیر معمولی نرمی کر دی گئی ہے۔ قواعد کے تحت اب ایم بی بی ایس (MBBS) میں سیکنڈ ڈویژن سے کامیاب ہونے والے امیدوار بھی اس اعلیٰ ترین تعلیمی عہدے کے لیے اہل قرار پائیں گے۔ ماہرینِ تعلیم نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو طالب علم سیکنڈ ڈویژن پاس ہو، وہ ریسرچ اور میڈیکل جامعات کی سربراہی کیسے کر سکتا ہے؟

70 برس عمر کی حد، مگر فٹنس گائیڈ لائنز غائب

دستاویزات کے مطابق، وائس چانسلر کے عہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 70 برس مقرر کی گئی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عمر کی حد اتنی زیادہ رکھنے کے باوجود، دستاویزات میں امیدوار کی جسمانی یا ذہنی فٹنس سے متعلق کوئی واضح شرط یا میڈیکل چیک اپ کا معیار شامل نہیں کیا گیا۔ 70 برس کی عمر میں کسی بڑے تعلیمی و انتظامی ادارے کو چلانے کے لیے ذہنی و جسمانی چستی ناگزیر ہوتی ہے، جس پر پالیسی سازوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

90 فیصد میرٹ بمقابلہ سیکنڈ ڈویژن

یہ نئی پیش رفت اور حیران کن قواعد ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں میں عام طلبہ کے داخلوں کے لیے عمومی طور پر 90 فیصد سے زائد کا کڑا میرٹ دیکھا جاتا ہے۔ اس تضاد پر مختلف حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ جن جامعات میں داخلے کے لیے طلبہ کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، ان کے سربراہان کی تقرری کے لیے تعلیمی معیار کو اس حد تک نیچے کیوں گرایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قواعد سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کا معیار متاثر ہوگا بلکہ اقربا پروری کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

سکولوں میں پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی مضمون قرار

ملک کی تعلیمی تاریخ میں پہلا بڑا قدم: پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی…

24 hours ago

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج، درجنوں بااثر افسران سیکریٹریٹ پر قابض

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج؛ ڈیپوٹیشن اور…

1 day ago

پشاور یونیورسٹی میں ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور دیگر تمام فیس رعائیتیں ختم

پشاور (نیوز رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم…

6 days ago

قائد اعظم یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی عدم تعیناتی پر طلبہ کی ہڑتال آج بھی جاری رہے گی

اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل وائس چانسلر کی طویل…

6 days ago

کے پی کے سکولوں کے لیے نیا تعلیمی نظام الاوقات جاری، اہم تبدیلیاں اور نئی ہدایات متعارف

پشاور (نیوز رپورٹر) ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے…

6 days ago

پنجاب میں ہمت کارڈ پروگرام میں غفلت پر محکمہ خصوصی تعلیم کے 7 سینئر افسران معطل

لاہور (خصوصی رپورٹر) محکمہ خصوصی تعلیم (اسپیشل ایجوکیشن) پنجاب نے حکومت کے فلیگ شپ "ہمت…

6 days ago