اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں مؤثر سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہی اقوام پائیدار ترقی حاصل کرتی ہیں جو تعلیم، بالخصوص بچپن کی ابتدائی تعلیم و تربیت کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے اساتذہ اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس شعبے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اور مؤثر آواز بلند کریں تاکہ اس میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “ارلی چائلڈ ہُڈ ڈیولپمنٹ” کے موضوع پر منعقدہ پانچویں بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیادی اینٹ ہے اور اس مرحلے پر معیاری تعلیم، سازگار ماحول اور مؤثر تربیت بچوں کو مستقبل کا ذمہ دار اور باصلاحیت شہری بناتی ہے۔
کانفرنس میں شریک قومی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم نے اس امر پر زور دیا کہ ابتدائی عمر میں سیکھنے کی صلاحیت عروج پر ہوتی ہے، اس لیے بچوں کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ مقررین نے کہا کہ ای سی ڈی مراکز کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، اساتذہ کی تربیت اور والدین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے جبکہ کھیل کے ذریعے سیکھنے کو فروغ دیا جائے۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی تعلیم میں ٹیکنالوجی کا متوازن استعمال بھی اہم ہے، تاہم بچوں کی فطری نشوونما کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔
کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر ظفر مرزا، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، نصرالدین روپانی، پروفیسر محمد رفیق طاہر، پرنیل آئرنٹ سائیڈ اور ڈاکٹر ایلن ٹاؤن، ڈاکٹر خدیجہ خان سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔
دو روزہ کانفرنس ہائبرڈ طرز پر منعقد کی گئی جس میں پلینری سیشنز، پوسٹر پریزنٹیشنز، پیرالل سیشنز اور راؤنڈ ٹیبل مباحثے شامل ہیں۔ یہ کانفرنس وزارت منصوبہ بندی و ترقی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، روپانی فاؤنڈیشن، پاکستان الائنس فار ارلی چائلڈ ڈویلپمنٹ، یونیسف اور دیگر اداروں کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

