بھارت، امتحانی پیپرز لیک ہونے کے خلاف نئی تحریک کا آغاز، لکھنؤ میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا بڑا احتجاج، 20 جون کو دہلی مارچ کا اعلان

لکھنؤ/نئی دہلی (ویب ڈیسک)

بھارت میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امتحانی پرچوں (پیپرز) کے لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ایک منفرد اور نئی تحریک نے جنم لے لیا ہے۔ “کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) نامی اس تنظیم کے بینر تلے طلبہ اور سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں حکومتی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق، مظاہرین نے امتحانی نظام میں ناکامیوں پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

نوجوانوں کی آواز کو دبانا اب ممکن نہیں: ابھیجیت دیپکے

سی جے پی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے لکھنؤ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کا نوجوان جاگ جائے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے۔ انہوں نے واضح کیا:

“ہمارا مقصد مکمل طور پر پرامن طریقے سے اپنا مؤقف حکومت تک پہنچانا ہے اور ہم کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں ہیں۔ اگر ملک کے لاکھوں نوجوان متحد ہو جائیں تو پھر ان کی آواز کو دبانا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔”

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ تحریک مکمل طور پر غیر سیاسی ہے، جسے صرف اور صرف ملک کے نوجوان خود چلا رہے ہیں تاکہ امتحانات میں ہونے والی دھاندلی اور انتظامی نااہلی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

تعلیمی اصلاحات کے لیے 5 نکاتی منشور

کاکروچ جنتا پارٹی نے امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے حکومت کے سامنے ایک 5 نکاتی منشور پیش کیا ہے، جس کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

  1. امیدواروں کو معاوضہ: اگر کوئی بھی امتحانی پرچہ لیک ہوتا ہے، تو حکومت متاثرہ ہونے والے ہر امیدوار کو 10,000 روپے معاوضہ ادا کرے۔
  2. نتائج کی بروقت فراہمی: کسی بھی سرکاری یا تعلیمی امتحان کے نتائج کا اعلان لازمی طور پر ایک ماہ کے اندر یقینی بنایا جائے۔
  3. آزادانہ آڈٹ: امتحانی ٹھیکوں اور ٹینڈرز کی تقسیم کا کسی آزاد ادارے سے آڈٹ کروایا جائے۔
  4. شفافیت اور احتساب: پورے امتحانی نظام کو جدید، شفاف اور جوابدہ بنایا جائے۔
  5. سخت کارروائی: پرچہ لیک ہونے یا انتظامی غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

بیس جون کو نئی دہلی میں بڑے طاقت کا مظاہرہ

رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ میں کامیاب احتجاج کے بعد اب اس تحریک کا دائرہ کار بھارت کے دیگر بڑے شہروں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ تنظیم آئندہ چند روز میں امرتسر، بنگلورو اور دہلی سمیت متعدد شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

سی جے پی نے ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی مستقبل کو بچانے کے لیے 20 جون کو ملک کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچیں، جہاں پارلیمنٹ یا مرکزی وزارتِ تعلیم کے باہر ایک بہت بڑے اور فیصلہ کن احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا جائے گا۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

تعلیمی اداروں میں خواتین کی ہراسگی پر خاموشی ناقابل قبول،سپریم کورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو…

2 days ago

’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان

پنجاب میں تعلیم دوست اقدام: ’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے…

2 days ago

جعلی تعلیمی اسناد پر گریڈ 19 کا افسر برطرف، تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر…

3 days ago

کے پی کے پبلک سروس کمیشن امتحان میں ڈیجیٹل نقل کی کوشش ناکام،پانچ گرفتار

پشاور (ایجوکیشن رپورٹر) خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے سیکنڈری سکول ٹیچر کے…

3 days ago

کے پی کےمیں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے الگ الگ ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کا فیصلہ

کے پی میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی انتظامی ساخت میں بڑی تبدیلی: ابتدائی…

3 days ago

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی، دسویں جماعت سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2026 کے نتائج کا اعلان

کراچی(ایجو کیشن رپورٹر) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے دسویں جماعت سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات…

3 days ago