Categories: بریکنگ نیوز

تعلیمی اداروں میں خواتین کی ہراسگی پر خاموشی ناقابل قبول،سپریم کورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف ایک اور تفصیلی اور تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جو ادارہ ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے تعلیمی مشن کی خود نفی کرتا ہے۔

عدالت نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کی طرف سے دی گئی 5 سالہ سروس ضبطی کی سزا بحال کر دی اور اپیل کو زائد المعیاد قرار دے کر خارج کر دیا۔ کیس کی تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں تعینات گریڈ 17 کے ملازم کامران خان کے خلاف ہراسانی کے الزامات ثابت ہونے پر کی گئی ہے۔

"ہراسانی برداشت کرنے والے ادارے سچائی پر خاموشی سکھاتے ہیں”

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انتہائی سخت ریمارکس دیتے ہوئے تحریر کیا:

"تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک سنگین زیادتی، جرم اور قانون و اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب کوئی ادارہ ایسے واقعات کو برداشت کرتا ہے، تو وہاں طلباء کو یہ سبق ملتا ہے کہ طاقت بدعنوانی کا جواز ہے اور سچائی پر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے، جو کہ پورے تعلیمی نظام کی تباہی ہے۔”

عدالت کی نظر میں ‘ہراسانی اور غیر قانونی رویے’ کیا ہیں؟

سپریم کورٹ نے کام کی جگہ پر خواتین کے لیے سازگار ماحول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ درج ذیل تمام افعال غیر قانونی اور جرم کے زمرے میں آتے ہیں:

  • غیر متعلقہ تبصرے، رائے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات بھیجنا۔
  • آوازیں کسنا یا اس جیسی کوئی بھی نامناسب حرکات کرنا۔
  • ملازمت کے فوائد یا ترقی کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا۔
  • بلااجازت جسمانی رابطے کی کوششیں کرنا اور کام کی جگہ پر مخالفانہ یا غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا۔

وفاقی وزیر تعلیم اور تمام چیف سیکرٹریز کو عدالتی احکامات

عدالتِ عظمیٰ نے اس فیصلے کو محض ایک کیس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے دائرہ کار کو ملک گیر بناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن اور وفاقی و صوبائی محتسب کو فوری بھیجی جائے تاکہ درج ذیل اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے:

  1. ضابطہ اخلاق کی تشہیر: وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کو واضح اور نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے۔
  2. ان ہاؤس انکوائری کمیٹیاں: ہر تعلیمی ادارے میں فوری طور پر اندرونی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ متاثرہ خواتین اساتذہ کسی خوف کے بغیر براہِ راست اپنی شکایت درج کروا سکیں۔
  3. اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ: ہراسانی کے واقعات کی فوری روک تھام اور ایکشن کے لیے اعلیٰ حکام تک براہِ راست رپورٹنگ کا ایک مؤثر اور فعال نظام قائم کیا جائے۔
urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

پنجاب کے تعلیمی اداروں کو 48 گھنٹوں میں بنیادی سہولیات اور طلباء کی تصدیق کا حکم

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب بھر کے سکولوں میں طلباء کی مردم شماری کی منظوری کے بعد…

3 منٹس ago

چین میں پاکستانی زرعی گریجویٹس کی تربیت کا تیسرا مرحلہ شروع، 107 ماہرین کی روانگی

لاہور(نیٹ نیوز) وزیرِ اعظم پاکستان کے خصوصی اقدام کے تحت چین میں 1,000 پاکستانی زرعی…

14 منٹس ago

چار ارب روپے خرچ ، 11 سال گزرنے کے باوجود تیمرگرہ میڈیکل کالج فنکشنل نہ ہو سکا

تیمرگرہ (نمائندہ حصوصی) چار ارب روپے خرچ ہونے اور 11 سال گزرنے کے باوجود تیمرگرہ…

24 منٹس ago

گومل یونیورسٹی کے علاقائی کردار کو مؤثر بنانے کا فیصلہ

ڈیرہ اسماعیل خان (حصوصی نمائندہ) گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کی…

38 منٹس ago

سندھ کے سکولوں میں "سمجھ بھی، سیفٹی بھی” ڈیجیٹل تحفظ پروگرام کا آغاز، 4 ہزار طلباء مستفید

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر)زندگی ٹرسٹ، دوربین اور میٹا کے اشتراک سے، اور حکومتِ سندھ کی معاونت کے…

48 منٹس ago

فیصل آباد بورڈ, جماعت نہم کے رزلٹ کارڈز آن لائن کر دیے گئے

فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد نے چیئرمین بورڈ…

1 گھنٹہ ago