پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے نجی تعلیمی اداروں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے ’فلیٹ کیٹیگری‘ کے بجائے ’پیمائش‘ کی بنیاد پر ٹیکس وصولی کا نیا نظام رائج کر دیا ہے، جسے ’کورڈ ایریا ٹیکس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے ٹیکس نظام کے تحت اسکولوں کے واش رومز، کوریڈورز، کمپیوٹر لیبز اور سائنس لیبارٹریوں کا رقبہ بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہوگا۔ ٹیکس پالیسی میں اس تبدیلی کا اطلاق یکم جولائی سے ہو گیا ہے۔
دوسری جانب، نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں “پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین)” اور “ہپ نے اس نئی ٹیکس پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 25-اے کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نمائندہ تنظیموں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ فنانس بل میں فوری طور پر ترمیم کی جائے اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے پرانا منصفانہ فلیٹ کیٹیگری ٹیکس بحال کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسکول کی زمین کو کمرشل زون کے بجائے قانونی طور پر ‘ایمنسٹی سپیس’ قرار دیا جائے اور طلبہ کے استعمال میں آنے والے تمام واش رومز، حفاظتی کوریڈورز اور دیگر مشترکہ جگہوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔
جامعات، حکومت اور ترقیاتی شعبے کا باہمی تعاون عصر حاضر کے سماجی چیلنجز سے نمٹنے…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے بی ایس سیشن 2018-2022 کے لیے سالانہ…
مردان (نمائندہ خصوصی) وومنز یونیورسٹی مردان میں ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کا چھٹا اجلاس…
چترال (نمائندہ خصوصی) جامعہ چترال کے سینیٹ کا دسویں اجلاس صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم…
امتحانی نظام کو مزید شفاف بنانے اور سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے…
کوہاٹ (نمائندہ خصوصی) کوہاٹ بورڈ کے زیرِ انتظام حالیہ میٹرک سالانہ امتحانات میں 4 ہزار…