Torkham border
جمرود (نمائندہ ) پاک افغان سرحد طورخم پر گزشتہ دو تین روز سے پاکستانی میڈیکل طلبہ کی ایک بڑی تعداد سراپا احتجاج ہے۔ سرحد کی بندش کے باعث افغانستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم سینکڑوں پاکستانی طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
افغانستان کی جلال آباد آریانہ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم نور الحق آفریدی اور دیگر مظاہرین نے بتایا کہ وہ کسی شوق کی بنا پر نہیں بلکہ شدید مجبوری میں احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:
طلبہ کا کہنا تھا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی یا انتظامی مسائل کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
“انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے طورخم بارڈر کو صرف طلبہ کے لیے کھولا جائے تاکہ وہ بروقت اپنے امتحانات میں شریک ہو سکیں۔”
پنجاب میں انٹر پارٹ 1 امتحانات کا آغاز 15 جون سے ، رول نمبر سلپس…
محکمہ تعلیم کے افسر کا غیر سنجیدہ رویہ اخلاقی گراوٹ کا ثبوت ہے، گریڈ 17…
لاہور/ملتان (نیوز ڈیسک) پنجاب بھر میں عید کی تعطیلات کے بعد ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ…
کراچی کی اسناد پشاور، لاہور کی کوئٹہ منتقل؛ تصدیق کرنے والے افسر اور امیدوار دونوں…
بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین کے ہائی اسکول کے طلبہ نے ایک منفرد اور شاندار کامیابی…
پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ہندکو زبان کو نئے نصاب کا…