Torkham border
جمرود (نمائندہ ) پاک افغان سرحد طورخم پر گزشتہ دو تین روز سے پاکستانی میڈیکل طلبہ کی ایک بڑی تعداد سراپا احتجاج ہے۔ سرحد کی بندش کے باعث افغانستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم سینکڑوں پاکستانی طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
افغانستان کی جلال آباد آریانہ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم نور الحق آفریدی اور دیگر مظاہرین نے بتایا کہ وہ کسی شوق کی بنا پر نہیں بلکہ شدید مجبوری میں احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:
طلبہ کا کہنا تھا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی یا انتظامی مسائل کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
“انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے طورخم بارڈر کو صرف طلبہ کے لیے کھولا جائے تاکہ وہ بروقت اپنے امتحانات میں شریک ہو سکیں۔”
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی موسم گرما کی…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADA /…
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر میں تعطیلات کے بعد تعلیمی سلسلہ معمول کے مطابق بحال…
غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے طلباء…
لاہور (سپیشل رپورٹر) معروف شاعر، ادیب اور نامور ماہرِ تعلیم اصغر اسد جعفری طویل علالت کے…
میرپور خاص: محکمہ تعلیم میں گریڈ 16 کی جعلی بھرتیوں کا ڈراپ سین، صوبائی وزیر…