مردان (بیورو رپورٹ) خیبر پختونخوا میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کے لیے فریش گریجویٹس اور نجی افراد کو بطور نگران تعینات کرنے کے فیصلے کے خلاف اساتذہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈیوٹیوں کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی ہے۔
اگیگا صوابی، مردان اور نوشہرہ کے نمائندہ وفد نے نیاز علی خان خٹک کی قیادت میں چیئرمین تعلیمی بورڈ مردان پروفیسر جہانزیب سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ غیر تجربہ کار افراد کی حساس امتحانی عمل میں شمولیت سے نہ صرف امتحانی شفافیت متاثر ہوگی
بلکہ اس سے اساتذہ کی عزتِ نفس بھی مجروح ہوئی ہے۔ اساتذہ رہنماؤں کا موقف ہے کہ امتحانی نظام کی بہتری کے لیے صرف تجربہ کار تدریسی عملے کو ہی تعینات کیا جانا چاہیے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا دیا جائے گا۔ اگرچہ بورڈ انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ میٹرک کے امتحانات 31 مارچ سے شروع ہو رہے ہیں اور اساتذہ کے اس احتجاج اور ڈیوٹیوں سے انکار کے باعث امتحانی انتظامات کی تکمیل میں شدید مشکلات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
ملک کی تعلیمی تاریخ میں پہلا بڑا قدم: پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی…
محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج؛ ڈیپوٹیشن اور…
پشاور (نیوز رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم…
اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل وائس چانسلر کی طویل…
پشاور (نیوز رپورٹر) ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے…
لاہور (خصوصی رپورٹر) محکمہ خصوصی تعلیم (اسپیشل ایجوکیشن) پنجاب نے حکومت کے فلیگ شپ "ہمت…