higher education commission hec
اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے “ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز” سے متعلق نئی جامع پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس نئی پالیسی کے تحت پاکستانی جامعات اب مقامی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ باہمی اشتراک سے مشترکہ تعلیمی پروگرام شروع کر سکیں گی،
جس کے ذریعے طلبہ ایک ہی تعلیمی عرصے میں دو ڈگریاں یا مشترکہ ڈگری حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی تعلیمی روابط کو فروغ دینا، طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت کو بڑھانا، تحقیق میں تعاون کو وسعت دینا اور پاکستانی گریجویٹس کی عالمی سطح پر پذیرائی اور ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ پالیسی کے تحت “ڈوئل ڈگری” میں طلبہ دو مختلف یا قریبی شعبوں میں دو الگ ڈگریاں حاصل کر سکیں گے،
جبکہ “ڈبل ڈگری” کے تحت ایک ہی مضمون میں دو مختلف جامعات کی الگ الگ ڈگریاں دی جائیں گی اور “جوائنٹ ڈگری” پروگرام میں دو یا زائد جامعات مشترکہ طور پر ایک ہی ڈگری جاری کریں گی جس پر تمام شریک اداروں کے دستخط ہوں گے۔ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد کے مطابق ایسے تمام پروگرام صرف انہی غیر ملکی جامعات کے ساتھ کیے جا سکیں گے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہوں اور جن کے متعلقہ پروگرام عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام رکھتے ہوں،
جبکہ دونوں اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoC) کا ہونا لازمی ہوگا جس میں فیس، کریڈٹ ٹرانسفر، امتحانی نظام، تحقیق اور طلبہ کے تحفظ سے متعلق تمام امور واضح درج ہوں گے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو ایک جامع “ڈپلومہ سپلیمنٹ” بھی جاری کیا جائے گا جس میں طالبعلم کے کریڈٹس، تعلیمی زبان اور پروگرام کی نوعیت کی تفصیلات واضح ہوں گی۔ تعلیمی ماہرین نے اس پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انتہائی اہم قرار دیا ہے
کیونکہ اس سے پاکستانی طلبہ کو بیرون ملک جا کر مکمل ڈگری حاصل کرنے کے بھاری اخراجات کے بغیر عالمی معیار کی تعلیم، جدید نصاب اور تحقیقی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جس سے ان کے لیے بین الاقوامی ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھیں گے۔ دوسری جانب جامعات کو بھی غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تحقیقی روابط، فیکلٹی ایکسچینج اور عالمی درجہ بندی (رینکنگ) میں بہتری کے مواقع میسر آئیں گے جس سے ملک میں بین الاقوامی طلبہ کی آمد اور علمی ماحول بہتر ہوگا۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام مشترکہ پروگراموں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی اور جامعات کو سالانہ کارکردگی رپورٹس جمع کرانا ہوں گی، جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے والے پروگراموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکے گی۔
ملک کی تعلیمی تاریخ میں پہلا بڑا قدم: پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی…
محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج؛ ڈیپوٹیشن اور…
پشاور (نیوز رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم…
اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل وائس چانسلر کی طویل…
پشاور (نیوز رپورٹر) ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے…
لاہور (خصوصی رپورٹر) محکمہ خصوصی تعلیم (اسپیشل ایجوکیشن) پنجاب نے حکومت کے فلیگ شپ "ہمت…