Categories: بریکنگ نیوز

کے پی کے،یونیورسٹیوں میں چیئرپرسن اور ڈائریکٹرز کی تعیناتیوں کے لیے نئے قواعد جاری، ایچ ای سی سے تسلیم شدہ 25 تحقیقی مقالے لازمی قرار

امیدوار کے لیے کم از کم ایک پی ایچ ڈی اسکالر یا 10 ایم فل/ایم ایس طلبہ کی نگرانی کا تجربہ ہونا ضروری ہوگا، محکمہ ہائر ایجوکیشن نے 100 نمبروں پر مشتمل جامع تشخیصی نظام متعارف کرا دیا

پشاور (نامہ نگار)

خیبر پختونخوا کے محکمہ ہائر ایجوکیشن نے صوبے کی سرکاری جامعات اور ان سے منسلک تدریسی اداروں میں چیئرپرسن، ڈائریکٹر اور پرنسپل آف کانسٹیٹیونٹ کالج کی تعیناتی کے لیے نئے معیارات اور قواعد کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت اب ان عہدوں پر تقرری کے لیے تحقیقی صلاحیت، تدریسی تجربہ، انتظامی قابلیت اور بین الاقوامی تحقیقی روابط کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔

نئے قواعد و ضوابط کے مطابق، کسی بھی تدریسی شعبے یا ادارے کے سربراہ کی تعیناتی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کرے گی، تاہم اس کے لیے وائس چانسلر متعلقہ شعبے کے تین سینئر ترین اساتذہ کے نام سفارش کرے گا۔ یہ اساتذہ پروفیسر یا ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوں گے۔ اگر متعلقہ شعبے میں مطلوبہ تعداد میں سینئر اساتذہ دستیاب نہ ہوں تو اسسٹنٹ پروفیسر کے نام پر بھی غور کیا جا سکے گا۔

تحقیقی مقالات اور تجربے کی سخت شرائط

نئے قواعد کے تحت امیدوار کے لیے ایچ ای سی (HEC) سے تسلیم شدہ جرائد میں کم از کم 25 تحقیقی مقالات کا شائع ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کم از کم پانچ تحقیقی مقالات شامل ہوں۔ اسی طرح امیدوار نے بطور پرنسپل مصنف کم از کم چھ تحقیقی مقالات تحریر کیے ہوں۔

دستاویز کے مطابق، امیدوار کے پاس کم از کم ایک پی ایچ ڈی اسکالر یا دس ایم فل/ایم ایس طلبہ کی نگرانی (Supervision) کا تجربہ ہونا ضروری ہوگا، جبکہ مالی ذمہ داریوں، بجٹ مینجمنٹ، قائدانہ صلاحیت اور سپروائزری تجربے کو بھی اہم معیار قرار دیا گیا ہے۔

100 نمبروں پر مشتمل نیا تشخیصی نظام (Evaluation Criteria)

محکمہ ہائر ایجوکیشن نے امیدواروں کی جانچ پڑتال کے لیے 100 نمبروں پر مشتمل ایک جامع سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کی تقسیم درج ذیل ہے

معیار اور اہلیت (Criteria)مختص کردہ نمبر (Marks)
تحقیقی مقالات (Research Papers)25
انٹرویو (Interview)20
تحقیقی نگرانی / سپروائزری (Research Supervision)15
تدریسی تجربہ (Teaching Experience)10
کنسلٹنسی منصوبے (Consultancy Projects)10
تعلیمی تقریبات کا انعقاد (Organizing Academic Events)10
بین الاقوامی تحقیقی تعاون (International Research Collaboration)05
ایچ انڈیکس (H-Index)05
کل نمبر100

نوٹ: اس نئے اور سخت تشخیصی نظام کا مقصد صوبے کی جامعات میں اقربا پروری کا خاتمہ کرنا، میرٹ کو فروغ دینا اور اعلیٰ عہدوں پر صرف انتہائی اہل اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والے اساتذہ کو تعینات کرنا ہے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

سکولوں میں پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی مضمون قرار

ملک کی تعلیمی تاریخ میں پہلا بڑا قدم: پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی…

1 day ago

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج، درجنوں بااثر افسران سیکریٹریٹ پر قابض

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج؛ ڈیپوٹیشن اور…

1 day ago

پشاور یونیورسٹی میں ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور دیگر تمام فیس رعائیتیں ختم

پشاور (نیوز رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم…

6 days ago

قائد اعظم یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی عدم تعیناتی پر طلبہ کی ہڑتال آج بھی جاری رہے گی

اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل وائس چانسلر کی طویل…

6 days ago

کے پی کے سکولوں کے لیے نیا تعلیمی نظام الاوقات جاری، اہم تبدیلیاں اور نئی ہدایات متعارف

پشاور (نیوز رپورٹر) ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے…

6 days ago

پنجاب میں ہمت کارڈ پروگرام میں غفلت پر محکمہ خصوصی تعلیم کے 7 سینئر افسران معطل

لاہور (خصوصی رپورٹر) محکمہ خصوصی تعلیم (اسپیشل ایجوکیشن) پنجاب نے حکومت کے فلیگ شپ "ہمت…

6 days ago