school education department khabar pukhtonkhwa
پشاور (نیوز رپورٹر) صوبے میں سرکاری پرائمری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پالیسی پر عملدرآمد تیز کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق، اس عمل کے نتیجے میں تقریباً چار ہزار اساتذہ سرپلس قرار دیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، آؤٹ سورسنگ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں 2 ہزار پرائمری اسکولوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کی نگرانی اور ہموار منتقلی کے لیے محکمہ تعلیم کے اندر ایک خصوصی سیل قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو اساتذہ کی تعیناتی، تبادلے اور کوڈ پوزیشن میں تبدیلی کے معاملات کی نگرانی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ بعض اداروں میں نرسری سے پانچویں جماعت تک داخل طلبہ کی تعداد انتہائی محدود تھی، جبکہ کئی اسکولوں میں ایک سے تین اساتذہ تعینات ہونے کے باوجود داخلوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جن اسکولوں کو آؤٹ سورسنگ کے دائرے میں لایا جائے گا، وہاں تعینات اساتذہ کو دیگر سرکاری اسکولوں یا اداروں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا یا پھر انہیں سرپلس پول میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے اساتذہ کی کوڈ پوزیشن تبدیل کرنے اور نئی تعیناتیوں کے انتظامی طریقہ کار پر کام تیزی سے جاری ہے تاکہ تدریسی عمل متاثر نہ ہو اور افرادی قوت کا درست استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک…
لاہور تعلیمی بورڈ کی تاریخی پیش رفت: رزلٹ کارڈز کا مکمل نظام ڈیجیٹلائز، کیو آر…
پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن…
ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح، ڈی سی کی تعلیمی اداروں…
جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے ہوئے مزید 110 پاکستانی طلباء…
گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر کے تعلیمی اداروں کی رونقیں بحال، پہلے…