کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) ملک میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر نافذ کی جانے والی نئی گریڈنگ پالیسی کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت سندھ میں میٹرک بورڈ کراچی کے نویں جماعت (جنرل گروپ) کا سالانہ نتیجہ 2026ء شدید زوال کا شکار ہوا ہے۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد کامیابی کا تناسب گزشتہ سال کی نسبت 18 فیصد گر گیا ہے اور 64 فیصد طلبہ ناکام ہو گئے ہیں جبکہ صرف 36 فیصد طلبہ ہی پاس ہو سکے۔
میٹرک بورڈ کے ذرائع کے مطابق نئی گریڈنگ پالیسی کے تحت ہر مضمون کے پاسنگ مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کیے گئے ہیں، جو طلبہ کی اتنی بڑی تعداد میں ناکامی کی بنیادی وجہ بنے ہیں۔
جاری کردہ اعداوشمار کے مطابق نویں جماعت جنرل گروپ کے امتحانات میں کل 14,277 طلبہ شریک ہوئے، جن میں سے 8,981 طلبہ ناکام رہے اور صرف 5,185 طلبہ ہی تمام پرچوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔ اس کے برعکس گزشتہ برس (2025ء) میں اسی امتحان کا نتیجہ 54 فیصد تھا، جہاں 14,984 میں سے 8,149 طلبہ پاس اور 6,803 (46 فیصد) ناکام ہوئے تھے۔
نئی گریڈنگ پالیسی نے تباہی مچا دی، نویں جماعت جنرل گروپ میں 64 فیصد طلبہ فیل، کامیابی کی شرح میں 18 فیصد کمی