حیدرآباد (ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں خواتین کو مساوی حقوق، تعلیم، روزگار اور تحفظ فراہم کرنے کے سرکاری
دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق ایک مختلف اور تشویشناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ صوبے میں لاکھوں بچیاں
اسکولوں سے باہر ہیں، دیہی خواتین کی بڑی تعداد ناخواندہ ہے اور اہم سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی انتہائی محدود ہے۔
سندھ جینڈر پیریٹی رپورٹ 2023-2024 کے جاری کردہ اعداد و شمار نے صوبے میں صنفی مساوات کی موجودہ
صورتحال اور حکومتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے اہم انکشافات
تعلیم سے محرومی: صوبے میں 40 لاکھ سے زائد لڑکیاں تعلیم کے حصول سے محروم اور سکولوں سے باہر ہیں۔
کراچی، بین الاقوامی تعلیمی وفد کی گورنر سندھ سے ملاقات
شرحِ خواندگی میں فرق، خواتین کی شرحِ خواندگی مردوں کے مقابلے میں 21 فیصد پوائنٹس کم ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں میں محدود نمائندگی: سندھ پولیس میں خواتین کی نمائندگی صرف 4.34 فیصد ہے۔
صنفی تشدد کے واقعات: صوبے بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اگرچہ رپورٹ میں بعض محدود شعبوں میں معمولی بہتری کے آثار کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم تعلیم، انصاف
کی فراہمی، روزگار اور خواتین کے تحفظ کے میدان میں حائل رکاوٹیں صوبے کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی
ہیں۔