کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ وفاقی ہائر
ایجوکیشن کمیشن کے سکالرشپ منصوبے کے تحت شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کے 2016ء
میں شارٹ لسٹ کر کے لندن، چائنا، جرمنی سمیت دیگر ممالک میں بھیجے گئے 7 ڈاکٹرز میں سے 3 ڈاکٹرز تا حال ملک
واپس نہیں آئے۔ اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اسکالرشپ منصوبے کے تحت
وطن واپس نہ آنے والے ان 3 ڈاکٹرز کی پی ایچ ڈی ڈگری پر 4 سالوں میں 1 لاکھ 29 ہزار 600 امریکی ڈالرز خرچ کر
دیے۔
اس ضمن میں چیئرمین پی اے سی نے یونیورسٹی حکام کو پی ایچ ڈی ڈگری مکمل کرنے کے بعد وطن واپس نہ آنے
والے ڈاکٹرز کے متعلق امیگریشن حکام اور متعلقہ سفارت خانوں کو خط لکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
سی ڈی اے کے ایچ ای سی کی زمین ہاؤسنگ سکیم میں شامل کرنے پروزیرِ اعظم کانوٹس
پی اے سی اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں ہوا، جس میں وائس چانسلر شہید محترمہ بینظیر بھٹو
میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کی وی سی نصرت شاہ، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے افسران سمیت متعلقہ افسران نے
شرکت کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی سال 2022ء اور 2023ء کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
آڈٹ میں اعتراض اٹھایا گیا کہ سکالرشپ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے بیرونِ ممالک سے واپس نہ آنے والے ڈاکٹرز
کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی اور ان پر آنے والے اخراجات کی وجہ سے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔
وی سی ڈاکٹر نصرت شاہ نے پی اے سی کو بتایا کہ 2016ء میں 4 سالہ پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے شارٹ لسٹ کیے
گئے 7 ڈاکٹرز میں سے 3 ڈاکٹرز (ڈاکٹر شاہ عالم سولنگی چائنا، ڈاکٹر ظفر علی ابڑو جرمنی اور ڈاکٹر بینظیر عباسی
لندن) 4 سالہ پی ایچ ڈی کے باوجود تا حال واپس نہیں آئے ہیں۔
وی سی نے بتایا کہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد بھی واپس نہ آنے والوں پر خرچ ہونے والی رقم کی ریکوری کے لیے
عدالت میں پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ بیرونِ ملک جانے والے ڈاکٹرز نے گارنٹی کے طور پر زمینوں کے کاغذات جمع کرائے
تھے، جن کی عدالتی فیصلے کے بعد نیلامی کر کے رقم وصول کی جائے گی۔
اجلاس میں یونیورسٹی میں ڈگریوں کی تصدیق کے دوران ایک نرسنگ لیکچرار کی بی ایس نرسنگ کی ڈگری جعلی
ثابت ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا۔ پی اے سی نے نرسنگ لیکچرار سے 10 برس کی تنخواہوں کے پیسے ریکور کرنے کا
حکم دے دیا۔