اہم ترین

جامعہ کراچی انٹری ٹیسٹ، داخلہ فہرست جاری

 کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی میں انٹری ٹیسٹ کی...

پشاور  کے اضلاع میں سکولوں کا معائنہ شروع

پشاور (ایجوکیشن رپورٹر) پشاور ڈویژن کے پانچوں اضلاع میں...

جرمنی پاکستانی طلبہ کو ہر ممکن سہولت دے گا: جرمن سفیر

ملتان (نمائندہ حصوصی) ملتان کے ایک نجی کالج میں...

سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں وزیر،وزیرمملکت اور سیکرٹری تعلیم کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اہم اجلاس میں وزیرِ تعلیم، وزیرِ مملکت اور سیکرٹری تعلیم کی مسلسل غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ بٹ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران چیئرپرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری کمیٹی میں نہ وزیرِ تعلیم تشریف لاتے ہیں اور نہ ہی اسٹیٹ منسٹر، یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔”

یونیورسٹی بل اور ڈگریوں کی اٹیسٹیشن کے مسائل اجلاس کے دوران ‘یونیورسٹی آف بزنس، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025’ پر غور کیا گیا۔ چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ بٹ نے مشروط اجازت کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے تمام قانونی و تعلیمی تقاضے پورے کرنے کی صورت میں ہی بل کی منظوری دی جا سکتی ہے۔

جامعہ کراچی انٹری ٹیسٹ، داخلہ فہرست جاری

اسی دوران چیئرپرسن نے ملک بھر میں تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی کہ اس وقت تقریباً 70 ہزار طلبہ کی ڈگریاں تاحال ایچ ای سی سے اٹیسٹ نہیں ہو سکی ہیں، جس سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

کورم کی کمی اور ووٹنگ پر اعتراض بعد ازاں یونیورسٹی بل پر ووٹنگ کرائی گئی، تاہم اراکین کی مطلوبہ تعداد (کورم) پوری نہ ہو سکی۔ اس موقع پر سینیٹر عبدالشکور نے کورم کے بغیر کارروائی پر اعتراض اٹھایا اور بل کو جلد از جلد منظور کرنے پر زور دیا۔

پی ایس ڈی پی بجٹ، اسکالرشپس اور پی آئی ایف ڈی کے معاملاتاجلاس میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دی جانے والی اسکالرشپس اور لیپس ہونے والے کوٹوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کمیٹی نے مالی سال 26-2025 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کی جانے والی کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ڈی آئی خان، محکمہ تعلیم کے 35 گھوسٹ ملازمین نوکریوں سے فارغ، تنخواہیں واپس کرنے کا حکم

علاوہ ازیں، اجلاس میں ‘پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن’ (PIFD) کے انتظامی امور بھی زیر بحث آئے۔ چیئرپرسن نے انکشاف کیا کہ ادارے میں گزشتہ 25 سال سے ایک ہی خاتون وائس چانسلر (VC) تعینات ہیں۔
اس پر جوائنٹ سیکرٹری جنید اخلاق نے وضاحت پیش کی کہ وائس چانسلر کی تقرری باقاعدہ سرچ کمیٹی کے ذریعے کی جاتی ہے، اور چانسلر (صدرِ مملکت) پینل میں سے کسی ایک نامزد امیدوار کی حتمی منظوری دیتے ہیں۔