پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ہندکو زبان کو نئے نصاب کا حصہ تو بنا دیا گیا ہے، لیکن صوبے بھر کے اسکولوں میں اس مضمون کو پڑھانے کے لیے ماہر اساتذہ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اساتذہ کی عدم دستیابی اور تاحال نئی بھرتیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ نیا تعلیمی فیصلہ شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، محکمہ تعلیم کی جانب سے نئے تعلیمی سال سے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) سمیت دیگر اضلاع کے اسکولوں میں ہندکو زبان کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی زبان و ثقافت کو فروغ دینا تھا، تاہم اسکولوں کی سطح پر اس کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہیں کی گئی۔
ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہندکو زبان کو پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کے باوجود، ان اسکولوں میں ہندکو کے ماہر اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اساتذہ کی اس شدید قلت اور ناپید ہونے کے باعث پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے۔
تعلیمی حلقوں اور والدین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کو نصاب میں نئی زبان شامل کرنے سے پہلے اسکولوں میں اس کے ماہر اساتذہ کی بھرتیوں کو یقینی بنانا چاہیے تھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کتابیں تو موجود ہیں لیکن کلاس رومز میں انہیں پڑھانے والا کوئی دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندکو زبان کے اساتذہ کی فوری بھرتیاں کی جائیں تاکہ طلبہ کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی موسم گرما کی…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADA /…
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر میں تعطیلات کے بعد تعلیمی سلسلہ معمول کے مطابق بحال…
غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے طلباء…
لاہور (سپیشل رپورٹر) معروف شاعر، ادیب اور نامور ماہرِ تعلیم اصغر اسد جعفری طویل علالت کے…
میرپور خاص: محکمہ تعلیم میں گریڈ 16 کی جعلی بھرتیوں کا ڈراپ سین، صوبائی وزیر…