Peshawar high court
پشاور (جنرل رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ میں سرکاری جامعات (یونیورسٹیز) کے انتظامی عہدوں پر اساتذہ (ٹیچرز) کی تعیناتی کو قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور صوبے بھر کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز (وی سیز) کو باقاعدہ نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سرکاری جامعات میں انتظامی پوسٹوں پر اساتذہ کے تقرر کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے معزز جج صاحبان، جسٹس اعجاز خان صابی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار آصف بابر نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا کی سرکاری یونیورسٹیوں میں انتظامی پوسٹوں پر اساتذہ (ٹیچرز) کو تعینات کیا گیا ہے، جو کہ مروجہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ تعیناتیاں ‘یونیورسٹیز ایکٹ کے سیکشن 17 اے’ کے سراسر خلاف ہیں، کیونکہ مذکورہ ایکٹ میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ انتظامی پوسٹوں پر اساتذہ تعینات نہیں ہوں گے۔
درخواست گزار نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس وقت صوبے کی سرکاری یونیورسٹیاں شدید ترین مالی بحران کا شکار ہیں، اور ان تعلیمی اداروں کے مالی و انتظامی بحران کی ایک بڑی وجہ ان اہم انتظامی پوسٹوں پر متعلقہ اور پیشہ ور افراد کے بجائے غیر متعلقہ افسران اور اساتذہ کی تعیناتی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست گزار کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد محکمہ اعلیٰ تعلیم (ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) اور تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے حکم تک ملتوی کر دی۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی موسم گرما کی…
پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADA /…
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر میں تعطیلات کے بعد تعلیمی سلسلہ معمول کے مطابق بحال…
غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے طلباء…
لاہور (سپیشل رپورٹر) معروف شاعر، ادیب اور نامور ماہرِ تعلیم اصغر اسد جعفری طویل علالت کے…
میرپور خاص: محکمہ تعلیم میں گریڈ 16 کی جعلی بھرتیوں کا ڈراپ سین، صوبائی وزیر…