کراچی(ایجو کیشن رپورٹر)محکمہ تعلیم کے مانیٹرنگ ونگ نے صوبے کے 30 اضلاع میں سروے کے بعد مجموعی طور پر 6,220 اسکولوں کو مخدوش قرار دیا ہے، جن میں 6,283 پرائمری اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں بھی شامل ہیں.
اہم فیصلے اور ہدایات:
تدریسی سرگرمیوں کی معطلی: تمام خطرناک اور جزوی طور پر مخدوش اسکولوں کی عمارتوں میں فی الفور تدریسی عمل روکنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے.
متبادل انتظامات: محکمہ تعلیم نے مخدوش اسکولوں کی فہرستیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کر دی ہیں. ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان عمارتوں کو خالی کرا کر طلبہ کو قریبی محفوظ اسکولوں میں منتقل کریں.
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع: اعداد و شمار کے مطابق بدین، میرپورخاص اور تھرپارکر میں خطرناک اور مخدوش اسکولوں کی تعداد دیگر اضلاع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے.
ضلعی انتظامیہ کا کردار: ڈپٹی کمشنرز نے ضلعی تعلیمی حکام کی مشاورت سے متبادل اسکولوں کی تلاش اور طلبہ کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے.
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…