Peshawar
پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور میں سرکاری اسکولوں کے لیے مختص مفت درسی کتابوں کی اوپن مارکیٹ میں غیر قانونی فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
اہم انکشافات اور کارروائی: ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف تجارتی مراکز بشمول اشرف روڈ، اندرون کریم پورہ، چکہ گلی، صدر بازار اور ڈھکی نعلبندی میں 55 سے زائد ایسی دکانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سرکاری درسی کتب سرِ عام فروخت کی جا رہی ہیں۔
نیٹ ورک کی تفصیلات: رپورٹ کے مطابق فقیر آباد کے علاقے میں ایک ایسا نیٹ ورک بھی بے نقاب ہوا ہے جو نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری کتب کی فراہمی میں ملوث ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل: انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کی چوری اور طلبہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نشاندہی کی گئی دکانوں اور گوداموں پر چھاپوں کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ اس غیر قانونی سپلائی چین کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
ملک کی تعلیمی تاریخ میں پہلا بڑا قدم: پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی…
محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج؛ ڈیپوٹیشن اور…
پشاور (نیوز رپورٹر) یونیورسٹی آف پشاور نے ڈپلوما، سرٹیفکیٹ اور مختلف پروگراموں میں زیرِ تعلیم…
اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل وائس چانسلر کی طویل…
پشاور (نیوز رپورٹر) ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کے…
لاہور (خصوصی رپورٹر) محکمہ خصوصی تعلیم (اسپیشل ایجوکیشن) پنجاب نے حکومت کے فلیگ شپ "ہمت…