Peshawar
پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور میں سرکاری اسکولوں کے لیے مختص مفت درسی کتابوں کی اوپن مارکیٹ میں غیر قانونی فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
اہم انکشافات اور کارروائی: ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف تجارتی مراکز بشمول اشرف روڈ، اندرون کریم پورہ، چکہ گلی، صدر بازار اور ڈھکی نعلبندی میں 55 سے زائد ایسی دکانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سرکاری درسی کتب سرِ عام فروخت کی جا رہی ہیں۔
نیٹ ورک کی تفصیلات: رپورٹ کے مطابق فقیر آباد کے علاقے میں ایک ایسا نیٹ ورک بھی بے نقاب ہوا ہے جو نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری کتب کی فراہمی میں ملوث ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل: انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کی چوری اور طلبہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نشاندہی کی گئی دکانوں اور گوداموں پر چھاپوں کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ اس غیر قانونی سپلائی چین کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک…
لاہور تعلیمی بورڈ کی تاریخی پیش رفت: رزلٹ کارڈز کا مکمل نظام ڈیجیٹلائز، کیو آر…
پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن…
ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح، ڈی سی کی تعلیمی اداروں…
جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے ہوئے مزید 110 پاکستانی طلباء…
گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر کے تعلیمی اداروں کی رونقیں بحال، پہلے…