FIR against Punjab University teachers and employees
لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی میں احتجاج کے دوران ملازم پر تشدد اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزام میں مسلم ٹاؤن پولیس نے اساتذہ اور ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق احتجاج کے باعث یونیورسٹی کے انتظامی امور اور معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147 اور 149 کے علاوہ ساؤنڈ سسٹم کے مبینہ غیر قانونی استعمال پر ‘پنجاب ساؤنڈ سسٹمز ایکٹ’ کی دفعہ 6 بھی شامل کی ہے۔
مقدمے میں یونیورسٹی کے متعدد ملازمین اور اساتذہ کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں چوہدری بشارت، تنویر اعوان، طیب اعجاز، حماد بٹ، ڈاکٹر کامران عابد، سردار اصغر، ڈاکٹر ماجد علی اور ڈاکٹر مقیت شامل ہیں۔ پولیس مزید قانونی کارروائی کر رہی ہے۔
دوسری طرف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کے خلاف ایف آئی آر پر اساتذہ و ملازمین میں شدید غم و غصہ، پایا جاتا ہے اور انہوں نے احتجاج مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے
پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، کنوینر پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، صدر چوہدری بشارت محمود اور سیکرٹری جنرل طیب اعجاز خان سمیت دیگر عہدیداران کے خلاف تھانہ مسلم ٹاؤن میں ایف آئی آر کے اندراج پر پنجاب یونیورسٹی کی اساتذہ اور ملازمین برادری میں شدید غم و غصہ اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایف آئی آر کے اندراج کو اساتذہ اور ملازمین کی پُرامن، آئینی اور قانونی جدوجہد کو دبانے کی ایک سنگین کوشش قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے
کہ مقدمات، دھمکیوں، دباؤ اور انتقامی ہتھکنڈوں کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ 36 روز سے مسلسل پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور وائس چانسلر کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بدعنوانیوں اور بیڈ گورننس کے حوالے سے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے معاملات میں شفافیت کا مطالبہ کرنا، سوال اٹھانا اور اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری اور ملازم کا آئینی و قانونی حق ہے، مگر اس حق کو ایف آئی آرز اور پولیس کارروائیوں کے ذریعے دبانے کی کوشش انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ وائس چانسلر اس وقت بیرونِ ملک ہیں جبکہ پرو وائس چانسلر وائس چانسلر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، لیکن اس دوران جوائنٹ
ایکشن کمیٹی کے منتخب اور نمائندہ عہدیداران کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، چوہدری بشارت محمود اور طیب اعجاز خان سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کو مقدمات میں الجھانے کی کوشش
دراصل پوری یونیورسٹی کمیونٹی کو ایک واضح پیغام دینے کی کوشش ہے کہ جو بھی مبینہ کرپشن، بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھائے گا، اسے پولیس اور مقدمات کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایف آئی آر اور دیگر دباؤ کے ہتھکنڈوں کے ذریعے احتجاج کو دبانے کی کوشش جاری رہی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع اور بھرپور بنایا جائے گا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایف آئی آرز، دھمکیوں اور پولیس کے ذریعے نہ تو مطالبات ختم ہوں گے اور نہ ہی اساتذہ اور ملازمین
اپنے مؤقف سے دستبردار ہوں گے۔ یونیورسٹی میں مبینہ کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور بیڈ گورننس کے خلاف جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
عہدیداران نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کسی فرد یا مخصوص گروہ کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ ملک کا ایک تاریخی اور قومی علمی ادارہ ہے۔ یونیورسٹی کے وسائل، وقار، خودمختاری، مالی شفافیت اور ادارہ جاتی نظام کا تحفظ پوری یونیورسٹی کمیونٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
کوٹری(ایجو کیشن رپورٹر) سندھ یونیورسٹی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف طلبا ایکشن کمیٹی کی…
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی صدارت میں ورکرز ویلفیئر بورڈ…
اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے افغان میڈیکل…
ملتان (ایجو کیشن رپورٹر) ملتان کے علاقے زکریا ٹاؤن میں واقع 'الحمد گرلز ہاسٹل' کی انتظامیہ…
پونے (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سرکاری ادارے 'مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے ہزاروں امیدواروں…
لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب بھر میں قائم سرکاری سکولوں میں ڈیوٹی انجام دینے والے 25 ہزار…