BISE Peshawar
پشاور/بنوں (نمائندگان) خیبر پختونخوا میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کا وقار خاک میں مل گیا۔ پشاور اور بنوں تعلیمی بورڈز کے تحت بدانتظامی سامنے آئی ہے، جہاں میٹرک کے اہم پرچے نہ صرف لیک ہوئے بلکہ ان کے جوابات بھی امتحان سے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔
پشاور بورڈ کے زیر اہتمام دسویں جماعت کے بیالوجی کے امتحان میں شفافیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
بنوں بورڈ میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ رہی۔ وہاں میٹرک کے کمپیوٹر سائنس کا پرچہ صبح سویرے ہی آؤٹ ہو گیا۔
صوبے کے دو بڑے تعلیمی بورڈز میں ایک ہی دن پرچوں کا آؤٹ ہونا امتحانی عملے کی ملی بھگت یا مانیٹرنگ سسٹم کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ اور سخت سیکیورٹی کے دعوؤں کے باوجود پرچے امتحانی مراکز سے باہر کیسے پہنچ رہے ہیں؟
والدین اور اساتذہ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے اور امتحانی نظام کی ساکھ بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی بنیاد پر عائد کرفیو کے باعث…
کراچی (خبر نگار / این این آئی) وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت جناح…
ملتان (ایجو کیشن رپورٹر رپورٹر) صوبائی محتسب پنجاب نے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر…
پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) پاکپتن کے اسسٹنٹ…
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اعلیٰ سطح کمیٹی نے وفاقی اردو یونیورسٹی کو…
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نیا اور اہم باب رقم…