ملتان (ایجوکیشن رپورٹر) محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت
کے اشتراک سے ’’کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر” پائیدار غذائی تحفظ کی جانب ایک قدم‘‘ کے موضوع پر چوتھی بین
الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے زرعی شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات،
جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملیوں کی اہمیت کو
تفصیلاً اجاگر کیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے زرعی
شعبے کے لیے ایک انتہائی شدید چیلنج بن چکی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی تحقیق، پانی کا مؤثر و
معقول استعمال، موسمیاتی تغیرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی فصلوں کی تیاری اور ماحول دوست
زرعی طریقوں کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور زرعی ماہرین
کو باہم مل کر ایسی عملی حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی جو زرعی پیداوار میں اضافے، کسانوں کی معاشی حالت کی
بہتری اور ملک میں پائیدار غذائی تحفظ کے حصول میں معاون ثابت ہو۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور پنجاب فاریسٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مابین معاہدہ
پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اکمل خان نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ موسمیاتی چیلنجز کے
تناظر میں سائنسی تحقیق اور جدت پر مبنی زرعی حل ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اسی طرح غازی یونیورسٹی کے وائس
چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ کا کہنا تھا کہ روایتی زرعی طریقے بدلتے ہوئے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے
میں مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر کو اپنانا وقت کا تقاضا ہے۔
بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے مندوبین اور زرعی ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے
اثرات کے خلاف مضبوط و پائیدار زرعی طریقوں پر اپنے تحقیقی مقالے اور نتائج پیش کیے۔ تقریب میں اقوام متحدہ کے
ادارہ برائے خوراک و زراعت کے نمایندگان نے بالخصوص شرکت کی اور زرعی ترقی کے لیے مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔
کیا آپ اس خبر کو ویب سائٹ کے لیے مزید مختصر