اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے گریڈ 19 کے افسر وسیم افضل کی انٹراکورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ملزم کو دورانِ ملازمت حاصل کی جانے والی تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے یکم جولائی 2026ء کو جاری کردہ تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ وسیم افضل جعلسازی اور فراڈ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عدالت کے مطابق انہوں نے بی اے اور ایم بی اے کی اسناد دھوکا دہی کے ذریعے حاصل کیں اور انہی کی بنیاد پر سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔ عدالت نے ملزم کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی ہدایات جاری کی ہیں۔
ملازمت کا ریکارڈ اور عدالتی پسِ منظر
عدالتی احکامات کی روشنی میں وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے ایف آئی اے کو وسیم افضل کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے لیے 21 لاکھ…
پشاور (نامہ نگار) پشاور کے 45 نجی سکولوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان…
پشاور (کورٹ رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل…
پشاور (نامہ نگار) وفاقی محتسب خیبر پختونخوا کے حکم پر اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر…
پشاور (سپیشل رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو فریقین کے مابین شدید ہنگامہ آرائی، جھگڑے اور…
وانا (نامہ نگار) جنوبی وزیرستان لوئر کے متعدد علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے…