پشاور (نیوز رپورٹر)خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات کو درپیش شدید مالی مسائل کے پیش نظر صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں نے متعدد سرکاری یونیورسٹیوں میں ایک سخت حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یونیورسٹیوں میں ایسے تعلیمی شعبوں (ڈیپارٹمنٹس) کی باقاعدہ نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے جہاں یا تو طلبہ کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے یا پھر داخلے مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ان شعبوں کو اب مرحلہ وار ختم کرنے یا دوسرے شعبوں کے ساتھ ضم (Merge) کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ میں جامعات کے لیے اضافی گرانٹس اور خصوصی مالی پیکیج کی مختلف تجاویز زیرِ غور آئی تھیں، تاہم مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث ان تجاویز کو حتمی منظوری نہیں مل سکی۔ اس صورتحال کے بعد اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے لیے ایک نئی مالیاتی اور انتظامی پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس کے تحت جامعات کو اپنے اخراجات اور آمدن میں ہر صورت توازن پیدا کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
طلبہ پر مالی بوجھ اور ملازمین کی برطرفی کا منصوبہ، اس نئی پالیسی کے مقصد کے لیے مختلف فیسوں اور سروس چارجز میں اضافے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں، جس سے طلبہ پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ نے اخراجات کم کرنے کے لیے ایسے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کی فہرستیں بھی تیار کرنا شروع کر دی ہیں جن کی خدمات میں کمی کی جا سکتی ہے یا جن پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ان شدید مالی مشکلات کے باعث جہاں جامعات کا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے، وہیں یونیورسٹیوں کے متعدد اساتذہ اضافی آمدن کے لیے نجی جامعات اور نجی تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے ہیں۔
کراچی (خبر نگار) محکمۂ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ نے ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی بنیاد پر عائد کرفیو کے باعث…
کراچی (خبر نگار / این این آئی) وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت جناح…
ملتان (ایجو کیشن رپورٹر رپورٹر) صوبائی محتسب پنجاب نے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر…
پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) پاکپتن کے اسسٹنٹ…
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اعلیٰ سطح کمیٹی نے وفاقی اردو یونیورسٹی کو…